٣٢ الحلال جولائی ۱۹۸۹
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳
دی That's the most recent claim of US naval scientists. امریکہ کے حالیہ الیکشن (۱۹۸۸) میں جو لوگ صدارت کے امیدوار تھے، ان میں مسٹر گیری ہارٹ (Gary Hart) کا نام ابتدا سرفہرست تھا۔ عوام میں ان کی مقبولیت کی بنا پر پیشین گوئی کی جا رہی تھی کہ اگلی میعاد کے لیے وہی صدر منتخب ہوں گے۔ مگر الیکشن سے پہلے یہاں کے بعض اخباروں نے مسٹر ہارٹ کی ایک تصویر چھاپ دی جس میں وہ امریکہ کی ایک فلم ایکٹرس ڈونا رائس (Donna Rice) کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔ اخباروں نے انکشاف کیا کہ مسٹر ہارٹ نے ڈونارائس کے مکان میں رات گزاری ہے۔ اس کے بعد مسٹر ہارٹ کی مقبولیت اچانک ختم ہو گئی۔ حتیٰ کہ انہیں صدارت کی امیدواری سے اپنا نام واپس لینا پڑا۔
اس کے برعکس مثال پاکستان کی ہے۔ نومبر ۱۹۸۸ء کے الیکشن کے موقع پر بھٹو پارٹی کے اسلامی مخالفین نے ایک تصویر چھاپی جس میں مسز نصرت بھٹو کو امریکہ کے سابق صدر مسٹر فورڈ کے ساتھ ناچتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کو لاکھوں کی تعداد میں چھاپ کر پاکستان بھر میں پھیلا دیا گیا۔ مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور پاکستانی عوام نے بھٹو پارٹی کے حق میں ووٹ دے کر بے نظیر بھٹو کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا ۔ اسلامی ملک اور غیر اسلامی ملک کا یہ فرق بھی کیسا عجیب ہے۔
ایک خبر پڑھی۔ اس میں بیل گاڑی کے بارہ میں ایک ”نئی دریافت کا ذکر تھا۔ ترقی پذیر ملکوں میں جانوروں کے ذریعہ کھینچی جانے والی گاڑیوں میں ٹائر لگانے سے بہت آسانی ہو گئی ہے۔ یہ گاڑیاں ہلکی چلتی ہیں اور ان میں زیادہ سامان ڈھویا جا سکتا ہے۔ مگر دیہاتی علاقوں میں کچی سڑکوں کی وجہ سے ان کے ٹائر اکثر اوقات پنکچر ہو جاتے ہیں اور پھر ان میں دوبارہ ہوا بھرنا اور قابل استعمال بنانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
خبر میں بتایا گیا تھا کہ ان ٹائروں میں ہوا کی جگہ لکڑی کا بھوسہ بھرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ان ٹائروں کے پنکچر ہونے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں تقریباً دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں اور ان میں ۵۰۰ کلوگرام سامان لادا جا سکتا ہے۔ یہ ”دریافت“
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues