We are not the master of our destiny
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۰
اور مشینی طبقہ کی اہمیت کو لوگوں کی نظر میں بڑھا دیا۔ کیوں کہ دورِ جدید کی مشینیں مشیني ماہرین سنبھالتے ہیں نہ کہ مذہبی ماہرین ۔
ایک صاحب نے کہا کہ اسلام، امریکہ میں مغلوب ہو گیا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو مسلمان امریکہ آئے ، وہ ابتداء اپنے ساتھ اسلامی تہذیب لے کر آئے تھے۔ اس طرح یہاں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا مقابلہ پیش آیا ۔ اس مقابلہ میں مغربی تہذیب برتر ثابت ہوئی۔ کیوں کہ ان مسلمانوں کی اکثریت نے اب اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اختیار کر لیا ہے ۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ کو بتانے کے لیے زیادہ صحیح لفظ یہ ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ یہاں جو مقابلہ پیش آیا وہ اصول پسندی اور خواہش پرستی کے درمیان تھا۔ اسلام اصول پسند زندگی کا نمائندہ تھا، اور مغربی تہذیب خواہش پرست زندگی کی نمائندگی کر رہی تھی ۔ اور ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ انسان اس معاملہ میں ہمیشہ کمزور واقع ہوا ہے ، وہ اصول پسندی کو چھوڑ کر خواہش پرستی کی طرف جھک جاتا ہے ۔
یہ تصادم امریکہ میں نہیں بلکہ ہر جگہ جاری ہے ۔ جہاں بھی آدمی کو موقع مل رہا ہے ۔ وہ اصول کو چھوڑ کر خواہش کو اختیار کر لیتا ہے ۔ امریکہ میں یہ واقعہ تہذیب کے انداز میں ہو رہا ہے اور دوسرے مقامات پر عمومی انداز میں ۔
ایک صاحب نے اپنی گفت گو میں مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ کبھی مسلمان دنیا میں غالب اور فاتح حیثیت رکھتے تھے ، آج مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں ایک بلین سے بھی زیادہ ہے ، مگر آج ہمارا حال یہ ہے کہ دنیا پر اثر انداز ہونا تو درکنار دوسرے لوگ ہمارے قومی فیصلے کرتے ہیں ، آج ہم اپنی قسمت کے مالک نہیں :
We are not the master of our destiny
موجودہ زمانہ میں تقریباً ہر جگہ مسلمان اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ وہ اپنی موجودہ حالت کا تقابل ماضی کی فاتحانہ حیثیت سے کرتے ہیں ، وہ اپنا تقابل داعیانہ حیثیت سے نہیں کرتے۔ مسلمان اگر اپنی موجودہ حیثیت کا تقابل ماضی کی داعیانہ تاریخ سے کریں تو ان کے اندر دعوتی عمل کا جذبہ بیدار ہوگا ۔ مگر ماضی کی فاتحانہ تاریخ سے تقابل ان میں کسی صحت مند جذبہ کو بیدار کرنے کا سبب نہیں بنتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues