Al-Risala · July 1989 · page 41

We are not the master of our destiny

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱

۲۷ دسمبر کو صبح ساڑھے دس بجے کا وقت ہے۔ صاف آسمان پر سورج چمک رہا ہے۔ موسم نہایت خوش گوار ہے۔ میں کوسٹا میسا (Costa Mesa) کے پارک (Wakeham Park) میں ایک بنچ پر بیٹھا ہوں۔ پارک کے اندر کے مناظر، باہر کا ماحول اور اطراف کی سڑکیں اور مکانات، ہر چیز اتنی باقاعدہ اور اتنی منظم دکھائی دیتی ہے کہ دیر تک سوچنے کے باوجود مجھے وہ الفاظ نہیں ملے جن سے میں اس کی تصویر کشی کر سکوں۔

مجھے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا۔ انھوں نے ایک بے نمازی نوجوان کو دیکھ کر کہا تھا کہ میرے بیٹے نماز پڑھ کرو تاکہ آخرت میں تمہارا خوبصورت چہرہ آگ میں نہ جلایا جائے۔ امریکہ کی خوبصورت زندگی اور یہاں کے بارونق تمدن کو دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں نے سوچا کہ کاش اللہ کے کچھ بندے اٹھیں اور یہاں کے انسانوں کو اللہ کے دین پر لانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی نسلیں اگلی دنیا میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہیں۔ اس دعا کے سوا مجھے کوئی اور لفظ نہیں ملا جس کو میں یہاں درج کروں۔

امریکہ میں بہت سے "قابل دید" مقامات ہیں۔ لوگوں نے کئی جگہوں پر لے جانے کی پیش کش کی مگر میں کہیں نہ جاسکا۔ البتہ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۸ کو یہاں کا مشہور ڈزنی لینڈ (Disneyland) دیکھا۔ یہ ایک تفریح گاہ یا تماشائی پارک (Amusement park) ہے ۔ اس کو ابتداء والٹ ڈزنی نے بنایا تھا اور ۱۹۵۵ میں اس کا افتتاح ہوا۔ بہت بڑے رقبہ میں طرح طرح کی عجیب چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر لوگ حیرت اور مسرت میں پڑ جاتے ہیں۔ اس کو دنیا کا سب سے زیادہ خوش کن مقام (Happiest place on earth) کہا جاتا ہے۔ اس کا ٹکٹ فی کس ۲۵ ڈالر ہے۔ دنیا بھر کے بے شمار لوگ اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ہر روز میلے جیسی بھیڑ ہوتی ہے۔ امریکہ میں اس قسم کے دو پارک بنائے گیے ہیں۔

ڈزنی لینڈ میں ایک طرف حال اور مستقبل کی دنیا کے پر عجوبہ مناظر ہیں ۔ دوسری طرف اس میں سفر کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈبوں کی ایک ٹرین بنائی گئی ہے جو پانی اور کوئلے سے چلتی ہے، اور سیٹی کے بجائے اس میں قدیم طرز کا گھنٹہ ہاتھ سے بجایا جاتا ہے۔ تاہم مجھے ڈزنی لینڈ سے کوئی خاص دلچسپی نہ ہوسکی۔ مجھے محسوس ہوا کہ ڈزنی لینڈ کی واقعی اہمیت اس سے بہت کم ہے، جتنی اس کی ۱۹۸۹ جولائی الـرسـالـہ ۲۱

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page