Al-Risala · January 1989 · page 34

نقصان در نقصان

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۴

ناقابل بیان قربانیوں کے بعد بیرونی قو میں ہمارے ملکوں سے واپس چلی گئیں تو اب یہ حال ہے کہ ہمارے تمام بہترین افراد اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر خود مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور اب وہ انھیں قوموں کے زیر سایہ زندگی گزارنے کو فخر سمجھ رہے ہیں جن کو ان کے اکابر نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی لعنت قرار دیا تھا۔ کیسے عجیب تھے یہ اکابر اور کیسے عجیب ہیں اکابر کے یہ اختلاف ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان ترقی اور کامیابی چاہتا ہے ۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو انسان کے اندر سے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی کے رہنماؤں نے اگر ایسا کیا ہوتا کہ جن بے شمار وسائل کو وہ مغربی قوموں کے خلاف لڑائی میں استعمال کرتے رہے ان کو وہ خود اپنے ملک کی علمی اور تمدنی ترقی میں استعمال کرتے تو درد ناک مہاجرت کا یہ واقعہ ، کم از کم اتنے بڑے پیمانہ پر ہرگز پیش نہ آتا۔ ایسی صورت میں حوصلہ مند افراد خود اپنے ملک میں وہ مواقع پالیتے جن کو استعمال کرکے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کرسکیں ۔ تیسری دنیا میں آزادی عمل کے مواقع نہ ہونا۔ اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کا فقدان ، اپنے حوصلوں کے مطابق ترقی کے راستہ میں بڑھتے رہنے والے حالات کی غیر موجودگی ، یہ وہ چیزیں ہیں جو اس واقعہ کو ظہور میں لارہی ہیں جس کو مشرقی ذہن کا مغربی دنیا کی طرف نکاس (Brain drain) کہا جاتا ہے ۔

اجتماعی حالات بے حد نازک ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ بے شمار پیچیدگیاں وابستہ ہوتی ہیں ۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اصلاحی کام کرنا الجھے ہوئے دھاگے کو سلجھانے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں جو لوگ اجتماعی زندگی میں نعروں کی سیاست لے کر کھڑے ہو جائیں وہ یا تو حد درجہ غیر سنجیدہ ہیں یا حد درجہ نادان ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page