Al-Risala · August 1989 · page 4

نازک مسئلہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۴

نازک مسئلہ

خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان پر کچھ شورش پسند مسلمانوں نے قاتلانہ حملہ کیا اور ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ھ کو انہیں شہید کر ڈالا۔ اس وقت آپ کی عمر ۸۲ سال تھی۔ آپ کی مدت خلافت ۱۲ سال ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ اس وقت حج کی ادائیگی کے بعد مکہ سے مدینہ کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ مقام سرف تک پہنچی تھیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر ملی۔ اس کے بعد وہ راستہ ہی سے مکہ کی طرف واپس ہو گئیں۔ مکہ پہنچیں تو ان کی آمد کی خبر سن کر لوگ آپ کی سواری کے گرد جمع ہو گئے۔ حضرت عائشہ نے مجمع کے سامنے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ خدا کی قسم، عثمان مظلوم مارے گیے۔ خدا کی قسم، میں ان کے خون کا بدلہ لوں گی (قتلو والله عثمان مظلوماً والله لا تطلبن بدمه، العبقريات الاسلامیہ، صفحہ ۲۱)

حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے بصرہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ مکہ اور اطراف مکہ میں منادی کر دی گئی کہ ام المومنین عائشہ بصرہ جا رہی ہیں۔ جو شخص اسلام کا حامی ہو اور خون عثمان کا بدلہ لینا چاہے، وہ قافلہ میں شریک ہو جائے۔

مکہ سے ڈیڑھ ہزار آدمیوں کا لشکر روانہ ہوا۔ باہر نکلے تو اطراف و جوانب سے لوگ جوق در جوق آ کر قافلہ میں شریک ہونے لگے۔ یہاں تک کہ جلد ہی اس لشکر کی تعداد تین ہزار ہو گئی۔ یہ لوگ چلتے ہوئے ایک مقام پر پہونچے جہاں ایک چشمہ تھا۔ حضرت عائشہ کے اونٹ کو دیکھ کر وہاں کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ حضرت عائشہ نے یہ منظر دیکھ کر چشمہ کا نام پوچھا۔ بتایا گیا کہ یہ موأب کا چشمہ ہے ۔ یہ نام سنتے ہی حضرت عائشہ نے کہا کہ مجھ کو لوٹاؤ۔ لوگوں نے سبب دریافت کیا تو حضرت عائشہ نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں بھی وہاں موجود تھی۔ آپ نے اپنی بیویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ کاش مجھ کو معلوم ہوتا کہ تم میں سے کس کو دیکھ کر موأب کے کتے بھونکیں گے یہ کہہ کر حضرت عائشہ نے اونٹ کی گردن پر ہاتھ مارا۔ اونٹ وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ایک دن اور ایک رات وہیں مقیم رہیں۔ تمام لشکر بھی آپ کے ساتھ وہیں ٹھہرا رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page