Al-Risala · August 1989 · page 5

نازک مسئلہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۵

اس کے بعد کچھ لوگوں نے منصوبہ بنا کر اچانک شور کر دیا کہ جلدی کرو ، جلدی کرو ۔ علی تم تک پہنچ گئے ۔ یہ سن کر تمام لشکر نہایت عجلت کے ساتھ بصرہ کی طرف روانہ ہو گیا ۔ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ کے اونٹ کو بھی تیزی سے اٹھا کر بھیڑ کے ساتھ روانہ کر دیا ۔ حضرت عائشہ کے سوال پر انہیں بتایا گیا کہ کسی نے غلطی سے آپ کو اس چشمہ کا نام موآب بتا دیا تھا ۔ در حقیقت یہ چشمہ وہ چشمہ نہیں ہے ۔ اور نہ موآب کا چشمہ اس راستہ میں آتا ہے ۔

یہ لوگ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ بصرہ کے قریب پہنچ گئے جہاں خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب مقیم تھے ۔ یہیں وہ جنگ پیش آئی جو اسلامی تاریخ میں جنگ جمل (۳۶ھ) کے نام سے مشہور ہے ۔ اس جنگ میں خود مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑے تھے ۔ ایک گروہ کے قائد حضرت علی تھے جن کے ہاتھ پر حضرت عثمان کے بعد خلافت کی بیعت ہوئی تھی ۔ دوسری طرف حضرت عائشہ تھیں جو خونِ عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر وہاں پہنچی تھیں ، کیوں کہ انہیں یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ حضرت علی خون عثمان کے معاملہ کو دبا رہے ہیں اور قاتلین عثمان سے انتقام لینے پر تیار نہیں ہیں ۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک اونٹ پر سوار تھیں ، اس لیے اس جنگ کا نام جنگ جمل پڑ گیا ۔

جنگ جمل کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ مختصر یہ کہ بوقت مقابلہ حضرت عائشہ کی طرف سے لڑنے والوں کی تعداد تقریباً ۳۰ ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔ دوسری طرف حضرت علی کی فوج کی تعداد تقریباً ۲۰ ہزار تھی ۔ حضرت عائشہ کے لشکر میں سے ۹ ہزار آدمی میدان جنگ میں مارے گیے ۔ اور حضرت علی کی فوج میں سے ایک ہزار ستر آدمی کام آئے ۔ گویا مجموعی طور پر تقریباً دس ہزار مسلمان خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ۔

اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ عوامی تحریک اٹھانا جتنا آسان ہے ، اس کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ۔ خواہ اس کی قیادت ام المومنین جیسی مقدس ہستی کیوں نہ کر رہی ہو ۔ جو لوگ جذباتی اشو پر پر جوش تقریریں کر کے بڑی بڑی تحریکیں اٹھاتے ہیں اور عوام کی بھیڑ اکٹھا کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ہمیشہ آغاز سے زیادہ انجام پر غور کریں ۔

اس قسم کی عوامی تحریکوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں لیڈر نمبر پر ہوتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page