Al-Risala · August 1989 · page 7

قیامت میں ادائیگی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۷

قیامت میں ادائیگی

عن أبى هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : اتدرون ما المفلس ؟ قالوا : المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع . فقال : ان المفلس من امتى من ياتى يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة ويامى قد شتم هذا ، وفتذف هذا ، واكل مال هذا ، وسفك دم هذا ، و ضرب هذا ، فيعطى هذا من حسناته ، وهذا من حسناته ، فان فنيت حسناته قبل ان يُقضى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ من خطاياهم فطرحت عليه ، ثم طرح في النار (رواه مسلم) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان ۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز اور روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے ۔ اسی کے ساتھ وہ اس حال میں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو کسی کو الزام لگایا ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو۔ کسی کو مارا ہو۔ پس اس کی نیکیاں اس کو اور اس کو دے دی جائیں ۔ پھر اگر حساب برابر ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو لوگوں کے گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے ۔ اور پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے ۔ یہ حدیث پڑھ کر ان لوگوں کے اوپر کپکپی طاری ہونی چاہیے جو دوسروں کا حق مارتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دوسروں کے مال پر مال دار بننے والے قیامت میں بالکل مفلس ہو جائیں گے جو لوگ دوسروں کے گھر پر قبضہ کر کے گھر والے بنے ہوئے ہوں ، وہ آخرت میں اس طرح بے گھر ہو جائیں گے کہ درخت کے پتوں کا سایہ بھی نہ ہوگا جس کے نیچے وہ پناہ لے سکیں ۔ دوسری طرف اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے خوش خبری ہے جن کا حق مارا گیا ہے۔ اس دنیا میں جو چیز انھیں گالی ، الزام تراشی ، غصب ، تشدد اور جارجیت کے روپ میں مل رہی ہے ۔ قیامت کے دن اس کی ادائیگی ایسے قیمتی سکوں کی صورت میں ہوگی جس سے آخرت کی دنیا کی ہر چیز حاصل کی جا سکتی ہے ۔ دنیا کے مفلس ، اس دن آخرت کے دولت مند کی صورت میں ظاہر ہوں گے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page