نازک مسئلہ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۶
اور عوام نمبر ۲ پر۔ مگر جب جوش و جذبہ میں بھرے ہوئے عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو چلی ہو تو اس کے بعد صورتِ حال یکسر بدل جاتی ہے۔ اب عوام کو نمبر 1کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور لیڈر نمبر ۲ کے مقام پر چلا جاتا ہے۔ اب تحریک کی رہنمائی کے لیے عملی طور پر صرف عوام کا جوش رہ جاتا ہے نہ کہ رہنماؤں کا ہوش۔
ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ اس قسم کے عوامی کام کو بہت زیادہ سوچ سمجھ کر شروع کیا جائے۔ کیوں کہ اس قسم کے کام کو شروع کرنا ہمیشہ انتہائی آسان ہوتا ہے، مگر اس کو نیک انجام تک پہنچانا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ حضرت عائشہ اگرج کے بعد گھر (مدینہ) واپس جانے کا فیصلہ کرتیں تو یہ ان کے لیے بالکل سادہ اور آسان سی بات ہوتی۔ مگر مو أب کے چشمہ پر جب کہ وہ بھیڑ کے درمیان تھیں تو یہی سادہ سی بات ان کے لیے ناممکن کے درجہ میں مشکل ہو گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہنگامی مواقع پر بیچ سے رائے بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے کاموں میں بیچ سے رائے بدلنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دریا کو چھلانگ کے ذریعہ پار کرنا چاہے، اور جب وہ اس کے درمیان میں پہنچے تو یہ فیصلہ کرے کہ مزید تیاری کے لیے اس کو پیچھے کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔
اقوالِ حکمت جیبی سائز الرسالہ کے پہلے صفحہ پر ہر ماہ جو مختصر اقوال چھپتے رہے ہیں ، وہ اور کچھ دوسرے حکیمانہ اقوال ملا کر یہ کتاب تیار کی گئی ہے جو جیبی سائز کے ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ پر ایک قول جلی خط میں درج کیا گیا ہے۔
یہ کتاب گویا زندگی کی سائنس ہے۔ اس میں کامیابی اور ترقی کے گر بتائے گئے ہیں۔ وہ نہ صرف آپ کے لیے ایک رہنما کتاب ہے، بلکہ وہ آپ کی طرف سے آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔ دکاندار حضرات اپنے گاہکوں کو یہ کتاب بطور گفٹ دے کر اپنی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues