بے خبری
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲
کے بعد چھ گھنٹہ کے اندر ہندوستانی فوج مالدیپ (Male) کے ہوائی اڈہ پر اترگئی۔ اس نے چند گھنٹوں کے آپریشن میں لطفی اور اس کے ساتھیوں کو عین اس وقت گرفتار کر لیا جب کہ وہ اپنی سمندری کشتیوں کے ذریعہ سری لنکا کی طرف بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مامون عبد القيوم کی حکومت بحال ہوگئی۔ دہلی کے انگریزی ہفت روزہ انڈیا ٹوڈے (۳۰ نومبر ۱۹۸۸) نے اس معاملہ کی تفصیلی رپورٹ دی ہے۔ اس نے بجاطور پر لکھا ہے کہ مالدیپ پر حملہ کرنے والے اپنے حملہ میں کامیاب ہو سکتے تھے، اگر انھوں نے احتیاطی تدبیر پر عمل کیا ہوتا۔ اور ٹیلی فون ایکسچینج اور ہوائی اڈہ پر قبضہ کرکے ان کو نا قابل استعمال بنا دیتے :
The attackers could have made it if they had taken care to neutralize. the telephone exchange and the airport (45). عبد اللہ لطفی کو شاید قدیم صدارتی محل کا علم تھا۔ جس کی حیثیت صرف مقامی قلعہ کی ہوتی تھی۔ اس کو جدید صدارتی محل کا علم نہ تھا جو مواصلات کے سائنسی وسائل کے ذریعہ پورے عالم سے مربوط ہوتا ہے۔ قدیم شاہی محل کے لیے سمندر اور پہاڑ حائل ہو جاتے تھے۔ مگر جدید شاہی محل کی راہ میں کوئی سمندر یا کوئی پہاڑ حائل نہیں ۔ وہ خلائی مواصلات کے ذریعہ پیغام رسانی کر سکتا ہے ، اور فضائی سواریوں کے ذریعہ اپنے لیے مدد بلا سکتا ہے۔
مالدیپ کا یہ واقعہ علامتی طور پر جدید مسلم تاریخ کی تصویر ہے۔ وہ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کے نا کام اقدامات کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے بے شمار اقدامات کیے مگر ان کے تمام اقدامات بلا استثناء نا کام رہے۔ اس کی وجہ دوبارہ وہی تھی جو عبد اللہ لطفی کے مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ہمارے رہنماؤں نے معاملہ کے ایک پہلو کو جانا مگر وہ معاملہ کے دوسرے پہلو سے بالکل بے خبر رہے ۔ اور موجودہ دنیا میں جو لوگ اس قسم کی بے خبری کا ثبوت دیں، ان کے اقدامات کے لیے بد ترین ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues