Al-Risala · August 1989 · page 13

وضو کی برکت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳

وضو کی برکت

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے وضو کیا۔ پھر بہتر طریقہ پر وضو کیا ، اس سے اس کی خطائیں جاتی رہتی ہیں ۔ حتیٰ کہ ناخن کے نیچے کی بھی (من توضأ فأحسن الو ضو خرجت خطایاہ حتی تخرج من تحت اظفاره، رواہ مسلم)

بہتر وضوء سے کیا مراد ہے ، اس کی وضاحت دوسری روایتوں سے ہوتی ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے ، پھر وہ اس کو پوری طرح کرے ۔ اس کے بعد وہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے (ما منكم من احد يتوضأ فيبلغ الوضوء ثم قال : اشهد أن لا إله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله الا فتحت له ابواب الجنة الثمانية يدخل من ايها شاء، رواہ مسلم)

اسی طرح حدیث میں ہے کہ کوئی شخص جب وضو کرے تو اس کے بعد یہ دعا پڑھے کہ خدایا مجھ کو تو بہ کرنے والوں میں سے بنا ، اور مجھ کو پاک صاف لوگوں میں سے بنا ۔ اللَّهُمَّ اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، الترمذی) ایک اور روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اس کے بعد آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ خدایا مجھے خطاؤں سے پاک کردے جس طرح سفید کپڑا دھو کر میل سے پاک کر دیا جاتا ہے (اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس)

مختلف روایتوں میں یہ بات مختلف انداز سے بتائی گئی ہے کہ وضو سے آدمی کے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ وضو اس کے گناہوں کے میل کو دھو تا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page