Al-Risala · August 1989 · page 15

مُردہ سے زندہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵

مُردہ سے زندہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں پہونچے تو اللہ تعالیٰ نئے ارضِ مقدس (شام وفلسطین) کو ان کے لیے لکھ دیا۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم لوگ اس سر زمین میں داخل ہو جاؤ۔ تم کو خدا کی مدد ملے گی اور تم وہاں کے لوگوں پر غالب آجاؤ گے (المائدہ ۲۱)

وہاں جو قوم اس وقت آباد تھی، وہ بظاہر ایک طاقتور قوم تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل ان کا نام سن کر ڈر گئے ان پر ایسا خوف طاری ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے رسول کی ہدایت کے باوجود ان کے خلاف اقدام کے لیے تیار نہ ہوئے (المائدہ ۲۲) بائبل میں ہے کہ : " تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی۔ اور وہ لوگ اُس رات روتے ہی رہے۔ اور کُل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے ۔ اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی، ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے ۔ یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ۔ خداوند کیوں ہم کو اُس مُلک میں لے جاکر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے۔ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے ۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں " (گنتی ۱۴: ۱-۴)

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا کہ بنی اسرائیل چالیس سال (1400-1440ق م) تک فاران اور شرق اُردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان میں جو ۲۰ سال سے نیچے ہیں، صرف وہی زندہ بچیں گے۔ ۲۰ سال سے اوپر کی عمر کے تمام لوگ ختم ہو جائیں گے۔ چنانچہ ہم سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہو گئے۔ اس دوران ان کے بچے نے صحرائی حالات میں پرورش پاکر نئی طاقت کے ساتھ اٹھے۔ اس نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں ارضِ مقدس کو فتح کیا۔

بنی اسرائیل نے ابتداء حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ان کے مقابلہ میں ہم ہار جائیں گے۔ اور پھر " ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے "۔ مگر یہی بچے بعد کو بڑے ہو کر شام و فلسطین کے علاقہ میں داخل ہو گئے اور وہاں کے حکمراں (عمالقہ) سے لڑاکر ۱۹۸۹ رسالہ اگست ۱۵

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page