Al-Risala · August 1989 · page 16

مُردہ سے زندہ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶

اس پر قبضہ حاصل کر لیا۔

بنی اسرائیل کے بچوں میں یہ طاقت کیسے پیدا ہوئی ۔ وہ بے حوصلہ سے باحوصلہ کیونکر بن گئے ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے باپ دادا کے برعکس ، لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا ۔ بچوں کے باپ جن سخت حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے ، انھیں سخت حالات کے اندر داخل ہونے میں ان بچوں کے لیے نئی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا ۔

موافق حالات میں زندگی گزارنا بظاہر اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر موافق حالات ہمیشہ جمود پیدا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام اعلیٰ خصوصیتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کر کے زندہ رہناپڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مردہ قوم بن گئے ۔ مگر مصر سے خروج کے بعد ان کو غیر آباد صحرا میں زندگی گزارنی پڑی ۔ یہ صحرائی زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان پر مشقت حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طور پر بالکل دوسری قسم کے انسان تھے ۔

بنی اسرائیل کی یہ نسل اخلاق و کردار کے اعتبار سے اپنے باپ دادا سے بالکل مختلف تھی ۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی ، جفا کشی ، حوصلہ اور حقیقت پسندی جیسی خصوصیات پیدا کردی تھیں ۔ اور بلاشبہ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی قوم کے افراد کو زندہ افراد بناتے ہیں۔ کوئی قوم اگر طولِ امد الحدید16:) کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کی تدبیر یہی ہے کہ اس کو غیر معمولی حالات میں ڈالا جائے ۔ اور اس کو ایسے شدید عمل سے گزارا جائے جس کے دوران اس کی سابقہ غیر مطلوب شخصیت ختم ہو اور نئی مطلوب شخصیت ابھر آئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page