Al-Risala · August 1989 · page 19

فخر نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

یہاں اس سلسلہ میں قرآن سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں ۔

اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے۔ سب کو تھامے ہوئے ہے۔ اس کو نہ اونگھ لگتی۔ نہ نیند آتی۔ زمین میں اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے سامنے بغیر اس کی اجازت کے سفارش کرسکے۔ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے سب کا اسے علم ہے۔ اس کے علم کے کسی گوشہ پر بھی کوئی شخص حاوی نہیں ہو سکتا مگر جو وہ چاہے ۔ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین پر چھایا ہوا ہے۔ ان کی نگہبانی اس کے لیے تھکا دینے والا کام نہیں۔ وہی سب سے اوپر ہے، وہی سب سے بڑا ہے (البقرہ ۲۵۵)

تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس کے معاملات درست رکھو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اگر تم مومن ہو۔ ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرزجاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں (الانفال ۱-۲)

اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے ۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (الزمر ۶۷)

اس طرح کی کتنی ہی آیتیں قرآن میں شروع سے آخر تک موجود ہیں جو اللہ کا تعارف ایسے انداز میں کراتی ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی لرز اٹھے، اللہ کے عظمت و جلال سے اس پر ہیبت طاری ہو جائے ۔ قرآن میں یہ بات تو کثرت سے مذکور ہے کہ اللہ پر ایمان والے اللہ کی یاد سے کانپ اٹھتے ہیں، اس کے ذکر سے ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ بات سارے قرآن میں کہیں نہیں کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو اللہ پر فخر ہونا چاہیے ۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ماننے والوں نے ابھی خدا کو نہیں پایا ۔ اگر وہ خدا کو ماننے والے ہوتے تو خدا کا تصور ان کے اندر عجز اور تواضع کی کیفیت پیدا کرتا۔ خدا کا نام لیتے ہوئے ان کی زبان کانپ اٹھتی، نہ کہ خدا کا نام لے کر وہ فخر و ناز کی باتیں کرنے لگیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page