Al-Risala · August 1989 · page 20

کہاں سے کہاں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

کہاں سے کہاں

مسٹر براہیم وتی نندن بہوگنا ہندستان کے ایک مشہور سیاسی لیڈر تھے ۔ وہ امریکہ میں کلیولینڈ (Cleveland) کے اسپتال میں زیر علاج تھے ۔ ۱۷ مارچ ۱۹۸۹ کو اسپتال ہی میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ بوقت انتقال ان کی عمر ۷۰ سال تھی ۔

ٹائمس آف انڈیا (۱۸ مارچ ۱۹۸۹ ، صفحہ ۱۳) میں ان کے حالات درج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسٹر ہو گنا نے اپنی زندگی میں غیر معمولی سیاسی شہرت حاصل کی ، اور آخر میں تقریباً تنہائی کی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ ان کے تمام دوست ایک کے بعد ایک انھیں چھوڑتے چلے گئے ۔ ان کے سیاسی شریک کار ان سے جدا ہو گئے ۔ اور ، 45سال سیاسی زندگی کے آخر میں ، انھوں نے اپنے آپ کو تنہائی کے بیابان میں پایا :

One by one, his friends left him, his political allies deserted him and, at the end of a political career spanning 45 years, he found himself in near wilderness (p. 13). تبصرہ نگار نے یہاں مسٹر بہوگنا کاجو انجام بتایا ہے ، وہی انجام وسیع تر پیمانہ پر ہر شخص کا ہونے والا ہے ۔ اس دنیا میں ہر آدمی شاندار ۴۵ سالہ زندگی گزار رہا ہے ، صرف اس لیے تاکہ اچانک اس کی شاندار زندگی کا خاتمہ ہو جائے اور وہ موت کے دروازہ سے گزار کر خدا کی عدالت میں پہنچا دیا جائے ۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو ۴۵ سال ملتے ہیں ۔ یہ مدت اس لیے نہیں ہے کہ وہ اپنا شاندار سیاسی کیریئر بنائے ۔ وہ صرف اس لیے ہے کہ آدمی آنے والے مستقبل کی ابتدائی تیاری کرے ۔ جو لوگ اپنے ۴۵ سالہ کو تیاری کا ابتدائی وقفہ سمجھیں اور اُس کے لیے اسے استعمال کریں وہ آنے والے مستقل مرحلہ میں کامیاب رہیں گے ۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے ۴۵ سال" ہی کو سب کچھ سمجھ لیں ، ان کا حال اس انسان کا سا ہو گا جو بیج ڈالنے سے پہلے پھل حاصل کرنا چاہے ۔ ایسے شخص کے لیے آنے والی دنیا میں ابدی ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں ۔ کیسا عجیب ہے انسان کا شاندار حال ، اور کیسا غیر شاندار ہے اس کا آخری مستقبل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page