سفر نامہ امریکہ۔ ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲
انسان کا جسم ایک بے حد قیمتی مشین ہے۔ مگر اس مشین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی کارخانہ نہیں جہاں اس زندہ مشین کے اسپیئر پارٹ (Spare Parts) تیار ہوتے ہوں۔ انسان کے لیے اپنی کمیوں کی تلافی کی صورت صرف ایک ہے ۔ وہ اپنے خالق کو راضی کرے تا کہ بعد کو آنے والی دنیا میں وہ اس کو ایک ابدی اور بے نقص جسم عطا کر دے۔
ایک تعلیم یافتہ عیسائی نے کہا کہ میں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا ہے۔ مگر بعض سوالات میرے ذہن کو الجھارہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون سے سوالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں غلامی کا مسئلہ ، پیغمبر کا کئی شادیاں کرنا ، حجر اسود کو چومنا ، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ اسلام یا کسی بھی نظام کا مطالعہ کرنے کا یہ طریقہ درست نہیں ۔ ہر مذہب یا ہر نظام میں کچھ بنیادی چیزیں ہوتی ہیں اور کچھ فروعی چیزیں ۔ ایک سنجیدہ متلاشی کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ پہلے زیر مطالعہ مذہب یا نظام کی بنیادی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے جب ان کے بارہ میں پوری واقفیت حاصل ہو جائے ، اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ فروعی یا ضمنی باتوں کو سمجھا جائے ۔
میں نے کہا کہ اگر آپ امریکہ کے نظام تہذیب کو سمجھنا چاہیں تو اس کا آغاز آپ یہاں سے نہیں کریں گے کہ امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن اپنی جیب میں ہمیشہ سونے کی نعل کیوں رکھتے تھے۔ مطالعہ کا یہ طریقہ درست نہ ہوگا۔ اس کے برعکس آپ یہ کریں گے کہ پہلے امریکہ کی تاریخ ، اس کے علوم ، اس کے قانون اور اس کے صنعتی اور تجارتی طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یہی طریقہ علمی طریقہ ہے اور یہی طریقہ آپ کو اسلام کے مطالعہ میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ یہاں بہت سے نو مسلم امریکیوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً ۳۹ سالہ پال یوسف جیول (Paul Yusuf Jewel) جو سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور سراج وہاج جو سیاہ فام نسل میں پیدا ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا۔ کانفرنس میں بھی بڑی تعداد میں نو مسلم امریکی آئے ہوئے تھے ۔ ان میں سے بعض نے وہاں تقریریں بھی کیں ۔
ایک خاص بات یہ محسوس ہوئی کہ نو مسلم امریکیوں میں ، دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں، زیادہ ایمانی جوش اور زیادہ جذبہ عمل پایا جاتا ہے۔ لوگوں کے ذریعہ یہاں کے جو حالات معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues