Al-Risala · August 1989 · page 23

سفر نامہ امریکہ۔ ۳

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

ہوائے، ان سے اندازہ ہو کہ یہاں کی سیاہ فام نسل میں اسلام کی اشاعت کے زبردست امکانات پائے جاتے ہیں۔ اگر یہاں کے مسلمانوں میں دعوتی جذبہ پوری طرح بیدار ہو جائے اور وہ سیاہ فام نسل میں اسلام کی تبلیغ بڑے پیمانے پر شروع کر دیں تو عین ممکن ہے کہ ان کی پوری قوم اسلام میں داخل ہو جائے ۔

امریکہ میں اظہارِ خیال اور اشاعت افکار کی مکمل آزادی ہے۔ یہاں وہ منافقت بھی نہیں کہ کاغذ پر کچھ لکھا ہو اور عمل کسی اور چیز پر کیا جاتا ہو۔ مسلمان اگر اس امکان کو استعمال کریں اور یہاں کی سیاہ فام نسل کو اسلام کے حلقہ میں داخل کر لیں تو اس کے بعد امریکہ میں ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے گا۔

امریکہ میں اس وقت یہودی غلبہ قائم ہے۔ اگر مذکورہ واقعہ رونما ہو سکے تو یہ منحوس غلبہ ختم ہو کر یہاں ایک نیا صحت مند غلبہ شروع ہو جائے گا۔ بعض اعلی تعلیم یافتہ امریکیوں کے خیالات سننے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہاں کے سنجیدہ لوگ یہودی غلبہ کو بالکل پسند نہیں کرتے مگر اسلام کے سوا کوئی چیز نہیں جو امریکہ سے اس منحوس غلبہ کو ختم کر سکے۔ یہاں آ کر اسلام خود امریکہ کی اپنی ایک ضرورت بن جاتا ہے۔

پاکستان میں راقم الحروف کی تمام کتابیں چھپ گئی ہیں اور وہاں عام طور پر ملتی ہیں۔ یہاں کے ایک پاکستانی مسلمان نے کراچی سے ظہورِ اسلام" حاصل کی تھی اور اس کو پڑھ چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے اس کتاب کے ایک باب حسنین : تاریخ کے دو علامتی کردار) میں نواسۂ رسول کے خلاف مسلم اٹھایا ہے، یہ کہاں تک درست ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ حسین کے عمل کے مقابلے میں حسن کے عمل کو ترجیح دی ہے، اور وہ بھی بہر حال نواسۂ رسول تھے ۔

پھر میں نے کہا کہ حسین اور حسن کا معاملہ امت کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالی نے ان کے ذریعہ سے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دو رول ماڈل (Role models) رکھ دیے تھے۔ ایک رول ماڈل (نمونہ عمل حسین کا، جس سے امت کو باہمی خوں ریزی کے سوا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں ملا۔ دوسرا رول ماڈل حسن کا، جس سے اسلام اور امت اسلام کو زبردست فائدے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page