۲۶ الزرس اگست ۱۹۸۹ء
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷
اسی طرح انہوں نے اور بہت سی معلوماتی باتیں بتائیں ۔ ۱۸۹۲ء میں امریکہ کا پہلا عربی رسالہ جاری ہوا جس کا نام ” کو کب امریکا “ تھا۔ نارتھ ڈا کوٹا کے شہر روس (Russ) میں یہاں کا پہلا جمعہ ۱۹۰۰ء میں قائم ہوا۔ مٹی گان کے شہر ہائی لینڈ پارک میں ۱۹۱۹ء میں پہلی باقاعدہ مسجد تعمیر کی گئی۔ مگر افسوس کہ اب وہ چرچ ہے ( وهو الآن مع الاسف كنيسة ) اس وقت امریکہ میں ۲۰۰۰ سے زیادہ باقاعدہ مسجدیں ہیں۔ گھروں کی سیکڑوں مسجدیں اس کے علاوہ ہیں۔
انھوں نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ ۱۸۵۶ء میں امریکہ نے عرب سے ۳۳ اونٹ خریدے تھے جو کشتی کے ذریعہ امریکہ لائے گئے تاکہ یہاں کے جنوبی علاقہ میں ان سے بار برداری کا کام لیا جا سکے۔ مگر آج یہ حال ہے کہ خود عرب ممالک امریکہ سے کار اور ہوائی جہاز خرید رہے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق ، عربوں کے مقابلہ میں دوسری قوموں کے لوگ اپنی زبان اور اپنے کلچر کی حفاظت کے معاملہ میں زیادہ سخت ہیں۔ ایک عرب ایک بار ایک یہودی کے گھر گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا لڑکا ایک کونے میں دونوں ہاتھ اوپر کیے ہوئے ایک پاؤں پر کھڑا ہے اور رو رہا ہے ۔ دریافت کرنے پر یہودی نے بتایا کہ میں اس سے کہتا ہوں کہ گھر کے اندر عبرانی زبان بولو مگر وہ نہیں بولتا ۔ اسی کی یہ سزا ہے۔ ایک بوڑھے عرب نے انھیں بتایا کہ میرے لڑکے عرب اخلاق اور عرب زبان کو بھول چکے ہیں۔ اس نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا اپنا گناہ ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو امریکہ میں لاکر جرم کیا ہے (إنه ذنبي انا۔ لقد أجرمت باحضار ابنائي الى أمريكا)
نئی نسل اگر چہ امریکی سماج میں گھل مل گئی ہے ۔ مگر قدیم نسل سخت غیر مطمئن ہے۔ ایک بوڑھا عرب جو امریکہ کا شہری بن چکا ہے اور یہاں خوش حال زندگی گزار رہا ہے ۔ اس نے ڈاکٹر عمر سے کہا کہ میری بدقسمتی ہے کہ میں امریکہ کے موٹر ساز کار خانہ میں محنت کر کے ڈالر کماتا رہا۔ یہی محنت اگر میں خود اپنے ملک میں کرتا تو وہاں بھی میں اپنے لیے ایک اچھی زندگی بنا سکتا تھا (ولسوء الحظ قد رأيت من الجهد في مصانع السيارات مالا أدري بزلته في بلدي لعيش لي
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues