۲۶ الزرس اگست ۱۹۸۹ء
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶
یہاں مجھے معلوم ہوا کہ جو مسلم قائدین ہندوستان میں "مسلمان خطرہ میں" والی سیاست کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں ۔ وہ دراصل ہندوستانی مسلمانوں کی لاشوں کے بہت بڑے تاجر ہیں۔ یہ لوگ امریکہ میں اور اسی طرح دوسرے دولت مند ملکوں میں) جاتے ہیں اور وہاں مسلمانوں کے اوپر ظلم کی داستانیں بتا کر بہت بڑی بڑی رقمیں حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان کے اور دوسرے ملکوں کے مسلمان جو یہاں کافی دولت کما رہے ہیں ، ظلم اور تعصب کی داستانیں سن کر ان کے اندر قومی ہمدردی کا جذبہ جاگتا ہے، اور وہ مختلف طریقوں سے بڑی مقدار میں رقمیں جمع کر کے ان نام نہاد قائدین کو دیدیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قائدین لاشوں کے تاجر ہیں، اگر چہ نادان لوگ ان کو اپنا نجات دہندہ سمجھے ہوئے ہیں۔ امریکی معاشرہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تقریباً ہر آدمی مقروض ہوتا ہے۔ کار، مکان اور اس طرح کی دوسری قیمتی چیزیں عام بینکوں سے سودی قرض لے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ قرض محدود آمدنی والے بھی لیتے ہیں اور زیادہ آمدنی والے بھی۔ محدود آمدنی والوں کے لیے وہ ایک ضرورت ہے۔ عام طور پر لوگ اپنا خرچ بڑھائے رہتے ہیں۔ اس لیے وہ رقم پس انداز نہیں کر پاتے اور قیمتی چیزیں حاصل کرنے کے لیے انھیں بینکوں کی مدد لینی پڑتی ہے۔ تاہم بزنس والے لوگ جن کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے، وہ بھی تقریباً صد في صد مکانات قرض پر حاصل کرتے ہیں۔
ڈاکٹر کمال کامل عبد الحمید عمر (پیدائش 1937) ایک فلسطینی عرب ہیں ۔ وہ تقریباً دس سال سے امریکہ میں ہیں۔ آج کل وہ سعودی اکیڈمی (واشنگٹن) میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے امریکی مسلمانوں کے بارہ میں کئی سال تک ریسرچ کی ہے اور اس موضوع پر وسیع معلومات رکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کولمبس سے بہت پہلے دسویں صدی عیسوی میں اسپین کے آٹھ مسلمان امریکہ کے جنوبی ساحل پر اتر چکے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آج تو یہاں بسنے والے عرب خاندان اپنی عربی زبان بھول چکے ہیں۔ ان کی بیشتر تعداد نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کر لی ہیں۔ مگر ان کو ایک بوڑھی عرب خاتون نے بتایا کہ میرے والد ۱۸۸۵ میں امریکہ آنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا امریکہ میں مسجد ہے۔ کشتی والوں نے بتایا کہ نہیں۔ وہ ایسے کافر ملک میں جانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور فوراً کشتی سے اتر آئے (خشى ان يُهاجر الى بلاد الكفر تلك واسرع بمغادرة الْقَارِبِ على الفور)
۲۶ الزرس اگست ۱۹۸۹ء
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues