Al-Risala · August 1989 · page 29

۲۶ الزرس اگست ۱۹۸۹ء

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹

کی بینکنگ پوری طرح ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ یہاں کی دولت پر قبضہ کرکے اس کو بھر پور طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ مگر یہ بات صرف زبانی مذمت تک محدود ہے۔ عملی طور پر یہاں کا تقریباً ہر مسلمان یہودی اقتصادی اداروں سے سودی قرض لے کر ان کو تا عمر اپنی کمائی کا ایک حصہ ادا کرتا ہے تاکہ وہ خود اس کے اپنے اقرار کے مطابق ، اس کو اسلام اور مسلمانوں کی جڑ اکھاڑنے میں لگائیں۔

لاس اینجلس کی ایک خاتون بلی روتھ (Billie Ruth) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ قبول اسلام کا سبب پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میں 18 سال پہلے کی عمر میں چرچ جاتی تھی۔ وہاں مجھے مسیحیت کے بارہ میں عجیب تجربہ ہوا۔ میں نے پایا کہ جو کچھ میں بائبل میں پڑھتی ہوں اور جو کچھ میں چرچ کے اندر سنتی ہوں ، دونوں ایک نہیں ہیں۔ میں نے سوال کرنا شروع کیا اور چرچ سوسائٹی کو چھوڑ دیا :

I found that what I read in the Bible and what I heard in the Church was not the same. I started questioning and I dropped out of church society. بعد کے مرحلہ میں انھوں نے قرآن کو پڑھا اور اسلام قبول کرکے ایک انڈونیشی مسلمان (سلیمان) سے شادی کرلی ، مطالعہ کے بعد انھوں نے پایا کہ اسلام واحد مذہب ہے جس میں جو کچھ لکھا ہے وہی بتایا بھی جاتا ہے :

Islam is the only religion that reads and teaches the same. بعض لوگ اس واقعہ کو اسلامی دعوت کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی عملی زندگیاں اسلام کے مطابق نہیں ہیں۔ مگر یہ صورت حال کسی بھی درجہ میں اسلامی دعوت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ۔ عیسائیت ایک منظم مذہب ہے ، اس بنا پر اس میں مذہب کے دو معیار بن گئے ہیں۔ ایک ان کا چرچ ، دوسرے ان کی کتاب مقدس ۔ ان دونوں میں اگر فرق یا تضاد ہو تو وہ خود مسیحی مذہب کو مشتبہ قرار دینے کا سبب بن جائے گا۔ اس کے برعکس اسلام میں اصل معیار صرف ایک ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page