۲۶ الزرس اگست ۱۹۸۹ء
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰
اور وہ اس کتاب مقدس ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا خلافِ اسلام عمل، خالص نظریاتی اعتبار سے، اسلامی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ مسیحیت میں ریڈنگ اور ٹیچنگ کا فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام میں صرف ریڈنگ اور پریکٹس کا۔
امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان نو مسلموں کے ذریعہ وہی دعوتی عمل دوبارہ زندہ ہونا چاہیے تھا جو دورِ اول کے نومسلموں کے ذریعہ ساری دنیا میں زندہ ہوا تھا۔ مگر عملاً ایسا نہ ہوسکا۔ محمد علی کلے کی پیدائش 1942) ایک امریکی نومسلم ہیں۔ ان کے اندر ابتداءً دعوت کا جذبہ تھا۔ مگر شاید میں عظیم ہوں (I am the greatest) کے شوق سے وہ چھٹکارا حاصل نہ کرسکے۔ اپنے کو سب سے بڑا ثابت کرنے کے لیے وہ بار بار باکسنگ کا خوف ناک کھیل کھیلتے رہے۔ آخری کھیل (۱۹۸۱) ان کے لیے سخت مہلک ثابت ہوا۔ ان کے سر میں ایسی چوٹیں آئیں جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا۔
محمد علی کے پاس شکاگو میں ۱۶ ایکروں کا نہایت وسیع مکان ہے۔ وہ دو فارم کے مالک ہیں۔ جدید ترین گاڑیوں کا ایک پورا دستہ موجود ہے۔ بہت بڑا بینک بیلنس اس کے علاوہ ہے۔ مگر محمد علی اب خود کچھ بھی نہیں۔ وہ آج ایک ختم شدہ طاقت (Spent force) بن چکے ہیں۔ اب وہ عام انسان کی حیثیت سے بھی زندگی گزارنے کے قابل نہیں، اسلامی داعی کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا تو درکنار۔
اس سلسلہ میں ایک عجیب مثال بلی روتھ سلیمان (Billie Ruth Suleiman) کی ہے۔ اس امریکی نومسلمہ سے پوچھا گیا کہ زندگی میں آپ کی خواہش کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے مدینہ سے گہری محبت ہے۔ اگر مجھے رہنے کے لیے کوئی ایک جگہ دی جائے تو میں پیغمبر کی مسجد کے قریب ترین رہنا پسند کروں گی:
O, I have deep love for Madina. If I were given one place to live, I would choose to be as close as possible to the Prophet's Mosque. میرا خیال ہے کہ اس قسم کے احساسات موجودہ مسلم سماج کا نتیجہ ہیں نہ کہ اسلامی تعلیمات کا۔ موجودہ مسلمان نہ صرف یہ کہ خود اسلامی دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ کوئی شخص اگر قرآن کو پڑھ کر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues