Can you tell me what my true nationality is?
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶
عین ممکن تھا کہ جس طرح امریکی قادیانی " تائب ہو کر امت مسلمہ کا جزو بن گیا ، اسی طرح پاکستانی قادیانی " بھی اپنی اعتقادی اصلاح کر کے امت مسلمہ میں شامل ہو جاتا ۔
واشنگٹن سے ایک عربی اخبار نکلتا ہے جس کا نام " الامة " ہے ۔ اس کے چند شمارے دیکھنے کو ملے ۔ یہاں کے انگریزی اخباروں کے مقابلے میں اس کا معیار صحافت بہت کم تھا ۔ اس کے شمارہ ۱۲ دسمبر ۱۹۸۸ میں صفحہ اول پر خلیل جبران کے چند اقوال درج تھے ۔ ایک قول یہ تھا : وَيْلٌ لِأُمَّةٍ مُقَسَّمَةٍ إِلَى أَجْزَاءٍ وَكُلُّ جُزْءٍ اس قوم کے لیے خرابی ہے جو بہت سے حصوں میں يَحْسَبُ نَفْسَهُ فِيهَا أُمَّةً بٹ جائے اور ہر جزو یہ سمجھے کہ وہی قوم ہے۔ مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ آباد ہیں۔ یہ لوگ مختلف اسلامی شخصیتوں سے متاثر ہیں اور اس کے مطابق اپنے اجتماعات کرتے رہتے ہیں ۔ انھوں نے مختلف ناموں سے الگ الگ تنظیمیں بھی قائم کر رکھی ہیں ۔
اسی قسم کی ایک تنظیم کا اجتماع امریکہ میں جولائی ۱۹۸۸ میں ہوا ، اس کی روداد میں نے پڑھی ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہماری تنظیم نے مختلف مقامات پر " دعوتی اجتماعات " کیے ۔ اس کے ساتھ درج تھا کہ " افغانستان ، فلسطین اور ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں مختلف شہروں میں مظاہرے اور جہاد کا نفرنسیں منعقد کی گئیں " میں اس اندازِ کار کو عملاً بے فائدہ سمجھتا ہوں ۔ قومی احتجاج اور دعوت حق کا کام ، دونوں ساتھ ساتھ نہیں کیا جا سکتا ۔
رپورٹ کے مطابق ، تنظیم کے جولائی ۱۹۸۸ کے اجتماع میں اس کے صدر نے جو تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارا نصب العين اسلامی نظام حکومت کا قیام ہے۔ اسی میں دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے ، انھوں نے گرجدار آواز میں کہا کہ مسلم نوجوان خالد و طارق کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور انسان کو انسان کی غلامی سے نکالنے کے لیے مجاہد بن کر اٹھ کھڑے ہوں ۔ ان کی جذباتی تقریر کے دوران بار بار اللہ اکبر کے نعرے لگتے رہے ۔
اس اجتماع میں مشہور انگریز نو مسلم یوسف اسلام ، سابق کیٹ اسٹوئنس (Cat Stevens) کو بھی بلایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ، یوسف اسلام کی تقریر کے دوران آڈیٹوریم پر مکمل سناٹا چھایا رہا۔ سامعین مبہوت ہو کر ان گفتگو سنتے رہے ۔ ان کی تقریر کا عنوان تھا " روشنی کی طرف سفر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues