Can you tell me what my true nationality is?
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
نئے سال کی شبہ کا منائیں دیتے ہیں۔
ایک تاجر کو معلوم ہے کہ اسے اپنے گاہک سے وہی زبان بولنا ہے جو گاہک کی اپنی زبان ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے داعی اس راز کو نہیں جانتے کہ وہ اپنے مدعو سے خود مدعو کی زبان میں کلام کریں۔ اگر کوئی شخص بظاہر مدعو کی زبان میں بولنے والا ہو تو وہ بھی صرف حروف تہجی کے اعتبار سے ہوگا۔ اسلوب کلام اور انداز بیان کے اعتبار سے دیکھیے تو مدعو کے آشنا اسلوب اور اس کے مانوس انداز میں بولنے والے داعی سرے سے دنیا میں موجود ہی نہیں۔
فرینکفرٹ سے دہلی کا سفر مغرب سے مشرق کی طرف تھا۔ یعنی سورج کے الٹی طرف۔ چنانچہ دن بہت تیزی سے ختم ہوا۔ فرینکفرٹ سے روانگی ہوئی تو دن کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ آٹھ گھنٹہ کا سفر طے کر کے جب دہلی پہنچے تو یہاں رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ یعنی "آٹھ گھنٹہ" میں "تیرہ گھنٹہ" کا سفر طے ہوا۔
۲ جنوری ۱۹۸۹ کو رات کے ڈیڑھ بجے جہاز دہلی پہنچا۔ آٹھ گھنٹہ کی لمبی اُڑان کے بعد جب جہاز حفاظت کے ساتھ زمین پر اترا تو مسافروں نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ ہم جس زمین پر سے وہ خود بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا میں دوڑ رہی ہے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہم ایک جہاز اترے اتر کر دوسرے جہاز پر سوار ہوئے۔ ہم انسانی سواری سے نکل کر خدائی سواری میں بلیٹ گئے۔
انسانی سفر مسلسل جاری ہے ۔ انسانی سفر کی منزل موت ہے نہ کہ کوئی ایئر پورٹ ۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم مسافر ہو (کن فی الدنيا كأنك عابر سبيل)
۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو ہندوستان سے امریکہ کے لیے روانگی ہوئی تھی۔ یکم جنوری اور ۲ جنوری ۱۹۸۹ کی درمیانی رات کو دوبارہ میں نے ہندوستان کی زمین پر قدم رکھا۔ یہ سفر اگر چہ بہت محدود مدت کے لیے تھا، مگر اس مدت میں پورا کیلنڈر تبدیل ہو گیا۔ تاریخ کے صفحہ پر ۱۹۸۸ کے بجائے ۱۹۸۹ لکھا جا چکا تھا۔ میں "حال" سے نکل کر "مستقبل" میں داخل ہو گیا۔
دہلی سے کیلی فورنیا کے سفر میں میں نے کرہ ارض کے آدھے سے زیادہ حصہ کا سفر کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues