کشمیر میں پروگرام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۴۰
جانے اور آنے کو ملا کر، مجموعی طور پر تقریباً ۳۰ ہزار میل کا فاصلہ طے ہوا۔ دس دن کے بعد جب میں اس لمبے سفر سے واپس ہو کر اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو میں نے سوچا کہ دنیا کے سفر میں آدمی بہر حال ایک روز اپنے ٹھکانے پر واپس آ جاتا ہے۔ مگر ایک اور سفر ہے جس کا معاملہ بالکل مختلف ہے ۔
یہ موت کا سفر ہے جو ہر ایک کو لازمی طور پر کرنا ہے۔ موت کے سفر کے بعد نہ واپسی کا کوئی امکان ہے اور نہ تلافی مافات کی کوئی صورت ۔ ہر آدمی کو لازماً ایک ایسی سواری پر بیٹھنا ہے جو کبھی اس کو واپس لے کر نہیں آئے گی کہ وہ اپنی کوتاہی اور اپنی سرکشی کی تلافی کر سکے۔ آہ، کیسا سخت معاملہ انسان کے ساتھ پیش آنے والا ہے اور وہ کتنا زیادہ اس سے غافل پڑا ہوا ہے۔ دنیا کی تمام عجیب باتوں میں سب سے زیادہ عجیب بات بلاشبہ یہی ہے ۔
کشمیر میں پروگرام
انجمن مظہر الحق بیروہ، کشمیر کے زیر اہتمام ایک دینی اجتماع ۲۰ اگست ۱۹۸۹ء کو ہو گا۔ انشاء اللہ دہلی سے مولانا وحید الدین خاں صاحب اس میں شرکت کریں گے۔ پہلا پروگرام بعد نماز ظہر ۲ بجے اقبال پارک سرینگر میں ہوگا ۔ اس موقع پر خطاب کا عنوان یہ ہوگا :
اسلام ۔ نئے عہد کے دروازہ پر
اسی روز چاڑ بجے شام لالہ رخ ہوٹل سرینگر میں قارئین الرسالہ اور الرسالہ کی دعوت و تحریک سے متفق افراد کے ساتھ مولانا موصوف کی ایک مجلس مشاورت ہوگی۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیل مقامی اخبارات میں شائع کرائی جائے گی۔ نیز حسب ذیل پتہ پر رابطہ قائم فرمائیں : سید عبداللطیف ایم اے، سرپرست انجمن مظہر الحق، بیروہ، کشمیر 193411
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues