Al-Risala · January 1989 · page 40

حقیقت بے نقاب

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۴۰

اس کے بعد حالات میں ایسی تبدیلی ہوئی کہ اجودھیا مارچ لوگوں کو خونی مارچ دکھائی دینے لگا۔ مسلمان عام طور پر یہ کہنے لگے کہ اجودھیا مارچ تو موت کی طرف مارچ ہے۔ ہم کیوں خواہ مخواہ اپنے آپ کو مردوائیں ۔ اور اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی عورتوں کو بیوہ کرنے کے لئے بے فائدہ اجودھیا مارچ کریں۔ اب قائدین تحریک کا وہی حال ہوا جو مذکورہ امام کا ہوا تھا۔ انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انہیں "لاکھوں کا مجمع" کہیں دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے نعرہ کو بدل دیا۔ اب وہ اجودھیا مارچ کی اپیل کرنے کے بجائے مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مسجدوں میں جا کر دعا کرو۔ مسلمان تو صرف خدا کی طرف مارچ کرنے والا ہوتا ہے، انسانوں کی طرف مارچ کرنے سے اسے کیا کام۔

اس میں میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ قائدین اگر یہی بات شروع سے کہتے تو یقیناً ان کے الفاظ کی قیمت تھی مگر اب ان کے ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔ اب اس قسم کے الفاظ ان کی بدترین نا اہلی کا اشتہار ہیں ، نہ کہ ان کی اہلیت اور لیاقت کا ثبوت۔

میری ڈائری میں 14 فروری ۱۹۸۶ کے تحت یہ الفاظ درج ہیں:

آج جمعہ کا دن تھا۔ بابری مسجد تحریک کے لیڈروں کی پکار پر آج "یوم بابری مسجد" منایا گیا دہلی اور یوپی کی مسجدوں میں پر جوش تقریریں ہوئیں۔ میں نے آج دہلی کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ امام صاحب آج معمول سے زیادہ پر جوش نظر آ رہے تھے۔ وہ بلند آواز سے تقریباً چیخنے کی زبان میں بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا:

" ہم اپنی گردنیں کٹوا دیں گے۔ ہمارے اوپر چاہے ٹینک چلا دئے جائیں اور توپ کے گولے برسائے جائیں ، مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری مسجدوں پر قبضہ کیا جائے اور ان کی بے حرمتی کی جائے ۔ " وغیرہ وغیرہ۔

نماز کے بعد مسجدوں سے جلوس نکالے گئے۔ لال کنواں دہلی میں جلوس نے شدت اختیار کرلی پولیس نے گولی چلائی جس سے دو مسلم نوجوان مرگئے۔ اسی طرح یوپی کے بعض اور مقامات پر گولی چلی اور مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

ایک دن کے لئے ہنگامہ کرنے اور ایک طرفہ نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان خاموش ہو گئے ۔ اور بابری مسجد بدستور " رام جنم بھومی مندر" بنی رہی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page