حقیقت بے نقاب
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
تعلیم کی غرض سے مدینہ میں مقیم تھے اور نہایت دلچسپ باتیں کیا کرتے تھے۔
مصطفی شاد رنے ایک لطیفہ سنایا۔ ایک حاکم تھا۔ اس کا ایک اونٹ تھا۔ جو ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ اور کھیتوں اور باغوں میں بہت نقصان کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ پریشان ہو کر اپنے خطیب (امام مسجد) کے پاس گئے اور کہا کہ اس کا کچھ علاج کیجیے۔ خطیب کے ذہن میں ایک تدبیر آئی۔ اس نے گاؤں والوں سے کہا کہ تم سب جمع ہو کر میرے ساتھ چلو۔ میں حاکم کی قیام گاہ پر پہنچ کر اس کو بلاؤں گا۔ جب حاکم باہر آئے گا تو میں بلند آواز سے کہوں گا : یا حاکم جملک (اے حاکم تمہارا اونٹ)، اس کے جواب میں تم لوگ پیچھے سے آواز لگانا: اِمْنَعُہُ عَنَّا (اس کو ہم سے روک دے)
خطیب صاحب روانہ ہوئے اور جوش میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ شروع میں گاؤں کے لوگ بھی ان کے پیچھے تھے۔ مگر ساتھ ہی ان پر حاکم کا خوف طاری تھا۔ چنانچہ ایک ایک کر کے وہ راستہ میں چھٹنے لگے۔ یاں تک کہ سب کے سب خاموشی سے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ آخر میں خطیب صاحب کے سوا کوئی اور باقی نہ رہا۔ خطیب صاحب جوش میں بڑھتے ہوئے حاکم کے مکان پر پہنچ گئے۔ وہاں دروازہ کھٹکھٹایا۔ حاکم باہر آیا تو اس کو دیکھ کر خطیب صاحب نے حسب قرار داد بلند آواز سے کہا: یا حاکم جملک۔ ان کا خیال تھا کہ گاؤں والے ان کے پیچھے ہیں اور وہ سب مل کر امْنَعهُ عَنا کا نعرہ لگائیں گے۔ مگر ان کی امیدوں کے خلاف پیچھے سے کوئی آواز نہ آئی۔ وہ بار بار یہا حاکم جملک کہتے رہے مگر پیچھے کوئی نہ تھا۔ جو اس دوسرے جملہ کو دہرائے۔ حاکم نے پوچھا کہ آخر تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اب خطیب صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انھیں معلوم ہوا کہ وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ اس صورت حال سے وہ گھبرا اٹھے۔ انھوں نے اپنے سابقہ نعرے کو بدل دیا اور حاکم سے کہا : يحتاج الى الناقة (وہ اونٹنی چاہتا ہے)، یہ کہا اور فوراً واپس روانہ ہو گئے۔
تقریب یہی حال بابری مسجد کی بازیابی کے لئے اجودھیا مارچ کے نعرہ کا ہوا ہے۔ نام نہاد قائدین نے اعلان کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی بازیابی کے لئے دو مارچ (۱۲ اگست، ۱۴ اکتوبر) کریں گے۔ انھوں نے اپنی پرجوش تقریروں میں کہا تھا کہ ملک بھر سے لاکھوں مسلمان ”بابری مسجد کے رہیں گے“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اجودھیا پہنچیں گے اور بابری مسجد میں فاتحانہ داخل ہو کر وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues