غلطی کی اصلاح
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۵
مسعود ثقفی کو ہاتھیوں نے اپنے پیروں کے نیچے کچل دیا۔ مسلمانوں نے پیچھے ہٹنا چاہا تو وہاں دریا ان کی راہ میں حائل تھا ۔ چنانچہ بہت سے لوگ دریا میں غرق ہو گئے۔ مسلم فوجیوں کی تعداد اس وقت ۹ ہزار تھی ۔ اس میں سے تقریباً ۶ ہزار افراد جنگ میں کام آگئے مسلمانوں کی بچی کھچی فوج دریائے فرات کے دوسری طرف جمع ہوئی ۔ اب ایک صورت تھی کہ ان کے شاعر اور خطیب اٹھتے اور اپنی شکست کو شہادت قرار دے کر اس کو گلوریفائی کرتے ۔ جیسا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان کرتے ہیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس انھوں نے پورے معاملہ پر نظر ثانی کی اور اس کا اعتراف کیا کہ دریا کے اُس پار میدان جنگ بنا کر انھوں نے غلطی کی تھی۔ اب ایک طرف مسلمان مزید فوج جمع کر کے تیاری کرنے لگے ، اور دوسری طرف ایرانیوں نے اپنے سردار مہران ہمدانی کو سالار یہ جنگ بنا کر بہت بڑی فوج کے ساتھ دوبارہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بھیجا۔ مہران ہمدانی جب فرات کے کنارے پہلا تو اس نے مسلم فوج کے سردار مثنیٰ کو دوبارہ یہ پیغام بھیجا کہ تم دریائے فرات کو پار کر کے ہماری طرف آتے ہو یا ہم دریائے فرات کو پار کر کے تمہاری طرف آئیں ۔ مسلم سردار نے دوبارہ وہ غلطی نہیں کی جو پہلی بار ان سے ہو گئی تھی ۔ انھوں نے کہلا دیا کہ تم ہی فرات کو عبور کر کے ہماری طرف آؤ ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب دونوں فوجوں میں جب لڑائی ہوئی تو معاملہ برعکس تھا۔ ایرانی فوج کے پیچھے دریا تھا اور سامنے اسلامی لشکر۔ دوسری طرف اسلامی لشکر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے آگے ایرانی فوج تھی اور پیچھے کھلی ہوئی زمین ۔ اس طرح میدانِ مقابلہ ایرانیوں کے خلاف اور مسلمانوں کے موافق ہو گیا ، ایرانی فوج نے حسبِ سابق زبردست حملے کیے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھیوں کو بھی استعمال کیا مگر آخر کار انھیں شکست ہوئی ۔ اسلام کے سپہ سالار مثنیٰ ابن حارثہ نے دریا کے اوپر لکڑی کے پل کو توڑ دیا تھا ۔ چنانچہ ایرانی فوج جب پیچھے کی طرف بھاگی تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی راہ نہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش میں دریا کی موجوں میں غرق ہو جائے ۔ ابن خلدون کی روایت کے مطابق ایرانی لشکر کے تقریباً ایک لاکھ آدمی مقتول ہوئے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کے لشکر میں جو لوگ اس جنگ میں کام آئے ان کی تعداد صرف ایک سو تھی ۔ یہ واقعہ رمضان ۱۳ھ میں پیش آیا ۔
شکست کے بعد فتح کا یہ عظیم واقعہ اپنی غلطی کی اصلاح کا کرشمہ تھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues