عورت جنگ میں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۶
عورت جنگ میں
روسی زبان میں ایک کتاب عورتوں کے بارہ میں چھپی ہے جس کا انگریزی جمہ ماسکو سے شائع کیا گیا ہے ۔ کتاب کی تفصیل یہ ہے :
S. Alexiyerich, War's Unwomanly Face, Progress Publishers, Moscow دوسری عالمی جنگ (۱۹۴۱) چھڑی تو روسی حکومت نے اپنے شہریوں سے جذباتی اپیلیں کیں اور مادر وطن تر (Motherland) کو بچاؤ کا نعرہ دیا۔ اس سے متاثر ہو کر جو روسی نوجوان فوج میں بھرتی ہوئے ان میں ۸ لاکھ (800,000) عورتیں تھیں جن کی عمریں ۱۵ - ۱۶ سال کے درمیان تھیں ۔ مذکورہ کتاب انھیں خواتین سے متعلق ہے۔ خاتون مصنف نے اپنی ہم سالہ تحقیق کے دوران ایک سو شہروں کا سفر کیا، انھوں نے دو سو شریک ہونے والی عورتوں کا انٹرویو لیا۔ یہ کتاب مذکورہ عورتوں کے بارے میں بہت سبق آموز معلومات پیش کرتی ہے۔ مثلا کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے بعد اکثر عورتوں نے اس حقیقت کو چھپانا شروع کیا کہ وہ جنگ میں شریک ہوئی تھیں ۔ "ہم نے چاہا کہ دوبارہ عام لڑکیوں کی طرح ہو جائیں، شادی کے قابل لڑکیاں ! " We wanted to become ordinary girls again. Marriageable girls. کتاب کی مصنف جنگ میں شریک ہونے والی ایک تعلیم یافتہ خاتون سے ملیں جن کا نام ویرا سفرمونا ڈرڈو (Vera Safrmovna Davdova) سنا۔ انھوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات کتاب کے بیان کے مطابق، یہ تھی کہ وہ یقین رکھتی ہیں کہ جنگ میں عورتوں کا رد عمل مکمل طور پر مردوں سے مختلف تھا۔ مردوں کا فیصلہ کسی تجربہ کے بارے میں زیادہ وقتی اور مبنی بر حقیقت ہوتا تھا۔ جب کہ عورتیں بہت زیادہ جذباتی انداز میں اپنا رد عمل ظاہر کرتی تھیں :
She believes that women reacted to war in a completely different way from men. The men were more matter-of-fact and casual about the experience, whereas the women reacted in an overwhelmingly emotional manner.
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues