عورت جنگ میں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۷
موجودہ زمانہ میں عورتوں کی فطرت اور ان کی پیدائشی صلاحیت کے بارہ میں کثرت سے تحقیقات کی گئی ہیں۔ عورت کی صنف کو خالص سائنسی اعتبار سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان تحقیقات کے ذریعہ جو باتیں معلوم ہوئی ہیں وہ حیرت انگیز طور پر عورت کے بارہ میں اسلام کے نقطہ نظر کی تائید کرتی ہیں ۔
جدید تحقیقات نے بتایا ہے کہ عورت پیدائشی طور پر زود حس ہے۔ وہ مرد کے مقابلہ میں جذباتی (Emotional) واقع ہوئی ہے۔ یہ دریافت واضح طور پر بتاتی ہے کہ عورتوں کو زندگی کے ایسے شعبوں میں داخل کرنا درست نہیں جہاں ٹھنڈے ذہن کے تحت فیصلہ کرنے کی ضرورت ہو۔ جہاں حالات کا تاثر قبول کیے بغیر رائے قائم کرنا پڑے۔ جہاں "مردانگی" کی ضرورت ہو نہ کہ "نسوانیت" کی ۔
سیاست کا شعبہ ، جنگ کا میدان، بین اقوامی معاملات ، عدالتی قضیے، بڑے بڑے صنعتی منصوبے، اس طرح کے تمام شعبوں میں ذہنی ڈسپلن اور غیر جذباتی فیصلوں کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ان امور میں وقتی محرکات سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرنا پڑتا ہے۔ اور ایسے تمام مواقع پر عورتیں اپنی فطری جذباتیت کی بنا پر غیر موزوں ثابت ہوتی ہیں۔ جب کہ مرد نسبتاً غیر جذباتی ہونے کی بنا پر زیادہ بہتر رد عمل پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔
عورت اور مرد کا یہی پیدائشی فرق ہے جس کی بنا پر اسلام میں دونوں کا میدان کار الگ الگ رکھا گیا ہے۔ یہ درجہ کے فرق کی بات نہیں ہے بلکہ عمل کے میدان میں فرق کی بات ہے۔ یہ تفریق سائنسی تحقیقات کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں نام نہاد آزادی نسواں کے علمبرداروں کا طریقہ غیر سائنسی ہے نہ کہ اسلام کا طریقہ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues