کت نا فرق
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۹
هنگامی مسئلہ پر اکٹھا ہوئی ہو۔ مثلاً فلسطین، فرقہ وارانہ فساد، بابری مسجد، سلمان رشدی جیسے مسائل۔ آپ دیکھیں گے کہ موضوع کا ذکر چھڑتے ہی ہر آدمی لسانی جہاد کا شہنشاہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی پر جوش طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے بولے، اور آتشیں الفاظ کی پوری ڈکشنری کو بیک وقت اپنی زبان سے دہرا ڈالے۔
مگر یہ لفظی جوش دکھانے والے عمل کے وقت پھسڈی ثابت ہوتے ہیں۔ مارچ کے موضوع پر تقریروں کا دریا بہانے والے مارچ کی تاریخ آنے کے بعد خاموش ہو کر گھر میں بیٹھ رہتے ہیں۔ بول میں آگے رہنے والے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بحث میں سب سے پہلے کھڑے ہونے والے اس وقت سر جھکا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں جب کہ عملی اقدام کا وقت سر پر آگیا ہو۔ جو برتن جتنا زیادہ خالی ہو، وہ اتنا ہی زیادہ آواز دیتا ہے۔ اسی طرح جو آدمی جتنا زیادہ بے عمل ہو اتنا ہی زیادہ وہ پر شور الفاظ بولتا ہے۔ بولنے والے کرتے نہیں، اور کرنے والے بولتے نہیں۔ اور حقیقت کی دنیا میں کرنے کی قیمت ہے نہ کہ بڑے بڑے الفاظ ہوا میں بکھیرنے کی ۔ قیمت میں اضافہ مہنگائی میں غیر معمولی اضافے کی بنا پر تمام اخبار اور رسالے اپنی قیمتیں بڑھا چکے ہیں۔ مجبورا فیصلہ کیا گیا ہے کہ الرساله اردو اور انگریزی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے ۔ ماہ اکتوبر ۱۹۸۹ سے دونوں کی قیمتیں حسب ذیل ہوں گی :
فی شمارہ پانچ روپیہ سالانہ چندہ ساٹھ روپیہ صاحبان ایجنسی اگر تعداد میں کوئی تبدیلی کرنا چاہیں تو نو نوراً مطلع فرمائیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues