Al-Risala · September 1989 · page 10

الٹا نتیجہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۰

الٹا نتیجہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز عرب کے شہر مکہ سے کیا۔ اس وقت مکہ میں قبیلہ قریش کے لوگوں کا غلبہ تھا۔ وہ آپ کے سخت مخالف ہوگئے۔

اس ابتدائی زمانہ میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو کارروائیاں کیں، ان میں سے ایک کارروائی یہ تھی کہ وہ ولید بن المغیرہ کے پاس جمع ہوئے جو ان کے درمیان اپنی دانشمندی اور اپنی تجربہ کاری کی وجہ سے مشہور تھا۔ انھوں نے ولید سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ محمد کے بارے میں ایسی باتیں لوگوں کے درمیان پھیلا دیں کہ وہ ان سے مُتوحِّش ہو جائیں اور ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔

اس کے بعد ان لوگوں کے درمیان مشورہ ہوا کہ لوگوں کے سامنے محمد کی تصویر کس طرح پیش کی جائے۔ کسی نے کہا کہ ہم یہ مشہور کریں کہ وہ کاہن ہیں۔ کسی نے کہا کہ ہم ان کو دیوانہ بتائیں۔ کسی نے یہ کہا کہ ہم ان کو شاعر کہیں ۔ ولید نے اس قسم کی تمام رایوں کو رد کر دیا۔ اس نے کہا کہ ہم کاہن اور دیوانہ اور شاعر کو جانتے ہیں۔ محمد کا کلام ان میں سے کسی کے کلام کے مشابہ نہیں۔ تم اس قسم کی جو بات بھی لوگوں سے کہو گے، اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہو جائے گا (وَمَا أَنتُم بِقَائِلِينَ مِنْ هَذَا شَيْئاً الآعْرَفُ أَنَّهُ باطل) صفحہ ۲۸۴ لوگوں نے ولید سے کہا کہ پھر تم ہی بتاؤ کہ ہم محمد کو کیا کہیں۔ اس نے کہا کہ سب سے قریب تر بات یہ ہے کہ ان کو جادوگر بتایا جائے۔ اور یہ کہا جائے کہ وہ ایک ایسا ساحرانہ کلام پیش کر رہے ہیں جس کے ذریعہ سے خاندان کے افراد میں جدائی ہوگئی ہے اور ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار سے کٹ گیا ہے۔

قریش کے لوگ اس رائے پر متفق ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد جب حج کا زمانہ آیا اور عرب کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ زیارت کعبہ کے لیے مکہ آنے لگے تو قریش کے مخالفین مکہ کے چاروں طرف راستوں پر بیٹھ گئے۔ جو شخص ان کے پاس سے گزرتا اس کو روکتے اور بتاتے کہ دیکھو، یہ شخص (محمد) جادوگر ہے۔ وہ ساحرانہ باتیں کرتا ہے۔ تم

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page