Al-Risala · September 1989 · page 14

بڑی ترقی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴

بڑی ترقی

علم النفس کے ماہرین نے انسانی سوچ کی دو قسمیں کی ہیں ــ کنور جنٹ تھنکنگ (Convergent thinking) اور ڈائیور جنٹ تھنکنگ (Divergent thinking) کنور جنٹ تھنکنگ یہ ہے کہ آدمی کی سوچ ایک ہی نقطہ کی طرف مائل رہے ۔ ایک چیز اس کے فکر کی گرفت میں آئے مگر دوسری چیز اس کے فکر کی گرفت میں نہ آ سکے ۔ یہ غیر تخلیقی فکر ہے ۔ ڈائور جنٹ تھنکنگ کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ ڈائور جنٹ تھنکنگ یہ ہے کہ آدمی کی سوچ ایک رخ سے دوسرے رخ کی طرف مڑ جائے ، وہ ایک چیز کو دیکھے اور اس کے بعد اس کا ذہن دوسری چیز کی طرف منتقل ہو جائے ۔ اسی کا دوسرا نام تخلیقی فکر ہے ۔ ( (۲۴ جنوری ۱۹۸۹ ) ایک شخص کسی بستی میں جوتا خریدنے گیا ۔ وہاں کی آبادی کافی بڑی تھی ۔ مگر وہاں جوتے کی دکان موجود نہ تھی ۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس تجربہ سے صرف یہ جانے کہ مذکورہ بستی میں جوتے کی دکان نہیں ہے ۔ یہ وہ شخص ہے جس کے اندر صرف کنور جنٹ تھنکنگ ہے ۔ دوسرا شخص وہ ہے جس پر یہ تجربہ گزرا تو اس کا ذہن اس طرف منتقل ہو گیا کہ اس بستی میں جوتے کے گاہک ہیں مگر جوتے کی دکان نہیں ، اس لیے اگر یہاں جوتے کی دکان کھولی جائے تو وہ بہت کامیاب ہوگی ۔ اس نے فوراً وہاں جوتے کی ایک دکان کھول دی اور پھر زبردست نفع کمایا ۔

یہ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر ڈائور جنٹ تھنکنگ ہے ۔ اس نے جوتے کی دکان میں ایک نئے کار و بار کی تصویر دیکھ لی ۔ اس نے دکان کے نہ ہونے میں دکان کا ہونا دیکھ لیا۔ ڈائور جنٹ تھنکنگ کی صفت ان لوگوں میں ہوتی ہے جن کے اندر تخلیقیت (Creativity) کی صلاحیت ہو ۔ یہی تخلیقیت تمام بڑی ترقیوں کی سب سے اہم شرط ہے ۔ انھیں لوگوں نے بڑی بڑی سائنسی در یافتیں کی ہیں جن کے اندر تخلیقی ذہن ہو۔ انھیں لوگوں نے بڑے بڑے سیاسی کارنامے انجام دیے ہیں جو تخلیقی ذہن کے مالک ہوں ۔ وہی لوگ اعلیٰ تجارتی ترقیاں حاصل کرتے ہیں جو تخلیقی فکر کا ثبوت دے سکیں ۔

اس دنیا میں پانے والا وہ ہے جس نے کھونے میں پانے کا راز دریافت کر لیا ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page