ایک اور اقلیت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
ایک اور اقلیت
مسٹر بی ایم بھاٹیا کا ایک مضمون ٹائمز آف انڈیا (۲ جنوری ۱۹۸۹) میں شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ـــــــــ ہندوستان میں دو قومیں ہیں ، ایک مغربی تعلیم یافتہ ، اور دوسرے بقیہ لوگ : Two Nations In India: Western Educated And Others مضمون میں بتایا گیا تھا کہ مارکس نے صاحب جائداد اور بے جائداد کی بنیاد پر انسانوں کو دو طبقہ میں تقسیم کیا ہے۔ ہندوستان میں ایسی کوئی تقسیم موجود نہیں۔ البتہ ایک اور تقسیم ہے جس نے ہندوستان کو ایک طبقاتی سماج (Class society) بنا دیا ہے۔ ان میں سے ایک انگریزی تعلیم یافتہ مغربی طبقہ (English educated, westernised class) ہے۔ اور دوسرا عوام کا طبقہ جو جاہل یا غیر انگریزی تعلیم یافتہ ہے۔ ثانی الذکر طبقہ ملک کی ۸۰ فی صد آبادی پر مشتمل ہے۔ جب کہ اول الذکر طبقہ بمشکل پوری آبادی کا ۲۰ فی صد حصہ ہے۔
ملک کی دولت کا ۵۰ فی صد حصہ اسی ۲۰ فی صد آبادی کے پاس ہے۔ وہی انتظامی عہدوں پر قابض ہے ، اسی کے ہاتھ میں ملک کی صحافت ہے۔ وہی تمام علمی اور تعلیمی اداروں پر چھایا ہوا ہے۔ وہی عملاً ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر ، پورے ملک کو چلا رہا ہے۔ ہندوستان میں انگریزی تعلیم برٹش انڈیا کمپنی نے ۱۸۳۵ میں شروع کی تھی۔ اب ڈیڑھ سو سال بعد یہ طبقاتی عمل اپنی آخری حد (Culmination) پر پہنچ چکا ہے۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان کی آزادی طبقاتی تقسیم کے اس عمل کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی ۔ (صفحہ ۶)
اس واقعہ کا ایک پہلو وہ ہے جس کو مسٹر بھاٹیا نے بیان کیا ہے۔ تاہم اس میں ایک خوش آئند پہلو بھی ہے۔ اس تقسیم نے اس ملک میں کسی حقیقی اصلاحی کام کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ آپ یہاں کی آبادی کے ۲۰ فی صد حصہ پر کام کر کے پوری آبادی تک پہنچ سکتے ہیں۔ آپ غالب اقلیت پر براہ راست اشاعت افکار کا کام کیجئے ، اور بقیہ ۸۰ فی صد اکثریت تک آپ کی دعوت بالواسطہ انداز میں پہنچ جائے گی ــــــــ ہر تاریک پہلو میں ایک روشن پہلو چھپا ہوا ہوتا ہے ، بشرطیکہ استعمال کرنے والے اس کو استعمال کر سکیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues