الٹا نتیجہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲
الٹا نتیجہ
بابری مسجد کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک مکمل طور پر الٹا نتیجہ برآمد کرنے والی ثابت ہوئی ہے۔ اس کا خطرناک نتیجہ نکلا ہے کہ ہندوؤں کے کٹر عناصر پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو کر باہم متحد ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کے لئے سنگین ترین خطرہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
۱۳ نومبر ۱۹۸۸ء کا واقعہ ہے۔ میں بھوپال ایئر پورٹ پر دہلی کی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ بھوپال کے ایک باشندہ مسٹر راج تیواری (عمر ۵۵ سال) نے اپنا ایک ذاتی تجربہ مجھے بتایا۔ وہ بزنس کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھیں ۲۲ اگست ۱۹۸۸ء کو ویسٹ بنگال کے شہر بانکورا (Bankura) جانا پڑا۔ وہاں وہ پشپک ہوٹل میں ٹھہرے، اس کے بغل میں ایک مندر تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ مندر کے اوپر ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہے :
ضلع شیو سینا کاریالیہ، پچچمی بنگال
راج تیواری صاحب نے کہا کہ میں اس بورڈ کو دیکھ رہا تھا کہ تقریباً ۷۰ سال کا ایک بوڑھا بنگالی وہاں آگیا۔ راج تیواری صاحب چونکہ بنگلہ زبان جانتے تھے اس لئے اسی زبان میں اس سے گفتگو ہوئی۔ بنگالی نے پوچھا کہ کیا دیکھ رہے ہو ۔ راج تیواری صاحب نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مندر کے بازو میں بینا کیسی۔ بنگالی نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے، انھوں نے اپنا نام اور پتہ بتایا۔ اس کے بعد بنگالی نے کہا کہ اندر آؤ۔ وہ راج تیواری صاحب کو اندر ایک کمرہ میں لے گیا جو دفتر کی مانند تھا اور کچھ لوگ وہاں کام کر رہے تھے۔ اس بنگالی کا نام پنکج مکرجی تھا۔
یہاں دیوار پر بہت سے ہندو لیڈروں کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ مثلاً شیو اجی، رانا پرتاپ، ساورکر، ہیڈ گوار ، وغیرہ۔ یہ تمام تصویریں دو فٹ چوڑی اور دو فٹ لمبے سائز میں تھیں۔ ان کے درمیان ایک زیادہ بڑی قد آدم تصویر لگی ہوئی تھی جو دو فٹ چوڑی اور چار فٹ لمبی تھی۔ بقیہ تصویریں نصف حصہ جسم کی تھیں مگر بڑی تصویر سر سے پاوں تک پورے قد کی تھی۔
راج تیواری صاحب نے غور کر کے اس تصویر کو پہچانا تو وہ سید شہاب الدین کی تصویر تھی۔ انھوں نے مذکورہ بنگالی سے پوچھا کہ سید شہاب الدین کی تصویر یہ یہاں کیوں لگی ہوئی ہے ۔ وہ تو آپ کے دشمن ہیں۔ مذکورہ بنگالی نے جواب دیا کہ بیٹے، یہ ہمارا دیوتا ہے۔ جو کام ہمارے دوسرے لیڈر ہزار
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues