ضلع شیو سینا کاریالیہ، پچچمی بنگال
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳
سال میں بھی نہ کر سکے ، اس کو بھگوان شہاب الدین نے ڈیڑھ سال میں کر دیا۔ سیکڑوں سال سے سوئے ہندو کو شہاب الدین نے ڈیڑھ سال میں جگا دیا۔ ہم تو ان کا مندر بنائیں گے اور ان کی پوجا کریں گے۔ مسٹرراج تیواری نے یہ قصہ ۱۳ نومبر کی شام کو ۳ بجے وہاں ایئر پورٹ پر لکھوایا اور اس کے نیچے اپنے دستخط کئے ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ کوئی شخص اس بات کو خود اپنی آنکھ سے دیکھنا چاہے تو وہ میرے ساتھ مانکورہ چلے۔ میں اس کو یہ چیز بھوپال دکھاؤں گا۔
اطلاعات بتاتی ہیں کہ مسٹر راج تیواری کی یہ رپورٹ انوکھی نہیں۔ چنانچہ ہفت روزہ ندائے ملت (لکھنؤ) نے اپنے ادار یہ مورخہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۸ میں لکھا ہے کہ " ایک بڑے ہندو لیڈر کے گھر ان کے ایک ہندو دوست گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ شہاب الدین صاحب کی ایک بڑی تصویر دیوار پر لگی ہوئی ہے۔ پھول کی مالا بھی چڑھا رکھی ہے۔ ان کے ہندو دوست کو سخت تعجب ہوا کہ شہاب الدین کی فوٹو اس گھر میں کیسے ۔ انھوں نے بہت تعجب سے پوچھا کہ یہ فوٹو آپ کے یہاں کیسے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ شہاب الدین ہمارا محسن ہے۔ اس نے ہندو قوم کو متحد کر دیا۔ دراصل یہی ہوا ۔ “ ایسے کھلے ہوئے نشانات ظاہر ہونے کے بعد بھی اگر مسلمان اپنے دوست اور اپنے دشمن کو نہ پہچانیں تو ان سے زیادہ نادان قوم دنیا میں اور کوئی نہ ہوگی، نہ حال میں اور نہ ماضی میں۔ تعمیر کی طرف از: مولاناحمیدالدین خاں مستقبل کی تعمیر، لاقانونیت کا مسئلہ، تاریخ کا سبق ترقی اور اتحاد، اصلاح کی طرف ، نمونہ انسانیت صفحات ۶۴ هدیه ۶ روپیه
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues