Al-Risala · September 1989 · page 31

قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۱

کا اعتراف کرنا ہے کہ یہ سب چیزیں براہ راست خدا کا عطیہ ہیں۔ اس نے انسانوں کی حاجت اور ضرورت کے لئے یہ تمام چیزیں پیدا کر رکھی ہیں۔ اب ہم سے یہ مطلوب ہے کہ ہم ان کو خدا کا عطیہ سمجھ کر انھیں استعمال کریں نہ کہ ان کو اپنی عقل یا اپنے دست و بازو کا کارنامہ سمجھ لیں۔

قربانی کے موقع پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے، اس کے متعلق حکم ہے کہ اس کو کھاؤ اور کھلاؤ۔ اس طرح قربانی کا عمل آدمی کے اندرفیاضی اور باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اسپرٹ ابھارتا ہے۔ وہ سبق دیتا ہے کہ تم خود کھانے پر اکتفا نہ کرو بلکہ دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ تم اپنی کمائی کو صرف اپنی چیز نہ سمجھ لو بلکہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ سمجھو۔ تم صرف اپنا معاملہ درست کر کے مطمئن نہ ہو جاؤ بلکہ دوسروں کے معاملات بھی درست کرنے کی کوشش کرو۔ تم ایک انفرادی انسان بن کر نہ رہو بلکہ معاشرہ کے ایک مفید فرد کی حیثیت سے زندگی گزارو۔ تم انسانیت کے کل کا ایک صالح جزء بن جاؤ۔

ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو معلوم ہو گا کہ قربانی ایک زندہ عمل ہے، نہ کہ محض ایک بے روح قسم کی تاریخی رسم۔ قربانی کا پیغام یہ ہے کہ اپنے وجود کے حیوانی حصہ کو دباؤ اور اپنے وجود کے انسانی حصہ کو زندہ کرو۔ یہی قربانی کی اصل حقیقت ہے اور یہی قربانی کا اصل پیغام۔

نوٹ : یہ تقریر ۱۴ جولائی ۱۹۸۹ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page