قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰
کے اندر صبر کا مادہ ہو۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو برداشت کر لیا کریں۔ لوگ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے سے معاملہ کریں۔
یہ صبر ہمیشہ قربانی مانگتا ہے۔ قربانی کے بغیر صبر برداشت کا رویہ ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے رویہ سے کسی کے وقار کو ٹھیس لگتی ہے۔ کسی کا سلوک کسی کی انانیت کو بھڑکادیتا ہے۔ کسی کی کوئی روش کسی کے لئے اشتعال پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسے ہر موقع پر گویا آدمی کے اندر ایک حیوان جاگ اٹھتا ہے۔ اب آدمی کو اپنے اندر جاگنے والے اس حیوان کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ اس اندرونی حیوان کی قربانی ہی دراصل حقیقی قربانی ہے۔ کیوں کہ اسی قربانی سے سچی حق پرست زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ صالح معاشرہ بنتا ہے جس کو حقیقی معنوں میں صالح اور صحت مند معاشرہ کہا جاسکے۔
اختلاف اور شکایت کے مواقع پر جاگنے والے اندرونی حیوان کو ذبح کرنا ہی وہ اصل قربانی ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اس قربانی کو پیش کرکے آدمی اس اعلیٰ عمل کا ثبوت دیتا ہے جس کو قرآن میں تقویٰ (الحج 37 کہا گیا ہے۔
جب آدمی اس نفسیاتی حیوان کی قربانی دیتا ہے، اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ مطلوب صفت پیدا ہوتی ہے جس کو صبر کہا گیا ہے۔ صبر و برداشت اور عفو و اعراض صالح معاشرہ کے قیام کے لئے ناگزیر طور پر ضروری ہیں۔ اور یہ صفتیں اندرونی حیوان کو ذبح کرنے کے بعد ہی حقیقی طور پر کسی کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔
قرآن میں قربانی کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لوگ حج کے لئے آئیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں دئے ہیں۔ پس تم اس میں سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ (الحج ۲۸ )
اس آیت سے قربانی کے دو مزید پہلو معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے جو چیزیں انسان کو دی ہیں، خواہ وہ ذبیحہ کا جانور ہو یا کوئی اور ضرورت کی چیز، ان سب کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ چیزوں کے استعمال پر اللہ کا نام لینا، دراصل اس واقعہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues