Al-Risala · September 1989 · page 33

قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳

سٹیشن پر اپنے آپ کو اتار نا پسند کرتا ہے۔

ٹرین میں تقریباً تین گھنٹہ گزارنے کے بعد میں الور پہنچا۔ یہاں اسٹیشن پر مولانا مفتی جمال الدین صاحب اور دوسرے لوگ موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر مدرسہ اشرف العلوم آیا۔ یہاں میرا قیام اسی مدرسہ کے مہمان خانہ میں تھا۔

الور، راجستھان کا ایک قدیم شہر ہے ۔ وہ ایک پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا ہے جس کے اوپر اب بھی ایک پرانے قلعہ کی عمارتیں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ قدیم زمانہ میں پہاڑی قلعے حکمرانوں کی حفاظت کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں وہ صرف ایک تاریخی دور کو یاد دلانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ معاشی دوڑ کی مشغولیت نے بہت کم لوگوں کو اس قابل رکھا ہے کہ وہ ماضی کے ان کھنڈروں کے بارے میں کچھ سوچ سکیں۔

الور ۱۷۷۱ میں راجپوت حکمراں کے قبضہ میں آیا ۔ ۱۷۷۵ ء میں وہ ریاست الور کی راجدھانی بنا۔ ۱۸۰۳ میں الور برٹش اقتدار کے تحت آگیا ۔ ۱۹۴۹ سے وہ راجستھان کا حصہ ہے۔ الور کے راجہ و نے سنگھ فارسی اور اسلامیات کے شیدائی تھے ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی اور دوسرے علماء عرصہ تک ان کے دربار میں رہے ۔ انھوں نے تقریباً ۶۰ سال پہلے دو لاکھ روپیہ خرچ کر کے گلستاں اور بوستاں کا ایک نسخہ تیار کرایا تھا جس پر سنہری کام بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے ۴ ہزار روپیہ خرچ کر کے قرآن کا ایک نسخہ تیار کرایا ۔ اس قسم کے بہت سے نوادر آج بھی الور کے میوزیم میں موجود ہیں جو زائرین کو گزرے ہوئے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ ۱۹۳۲ میں مہاراجہ سوائی جے سنگھ (الور) نے اپنی کونسل میں اسپیچ دی تو انھوں نے فارسی اور اردو کے کئی اشعار پڑھے ۔ صائب کا ایک شعر یہ تھا :

بہر کارے کہ ہمت بسته گردد اگر خارے بود گلدستہ گردد ان کا نظریہ تھا کہ ان کی ریاست میں ہندو اور مسلمان پیار اور محبت کے ساتھ رہیں۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے دلدادہ تھے ۔ اپنی اس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کونسل کی تقریر میں یہ شعر پڑھا : دنیائے جہاں میں اے یارو جو کوئی رہے دلشاد رہے گلشن بھی رہے گلچیں بھی رہے بلبل بھی رہے صیاد رہے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page