Al-Risala · September 1989 · page 43

It contain..... several ancient mosques (1/285).

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳

مولا نا مفتی جمال الدین صاحب نے بتایا کہ ایک بار وہ الور کے ایک ہندو وکیل کے یہاں گئے۔ اس کے دفتر کی دیوار پر ایک خوبصورت فریم تھا۔ اس میں جلی حرفوں میں یہ فارسی شعر لکھا ہوا تھا : بترس از خدا و میاز ار کس رہ رستگاری همین است و بس انھوں نے مزید بتایا کہ الور میں ایک بار وہ ایک ہندو دکاندار کے یہاں گئے۔ وہ زیادہ عمر کا تھا اور پرانا زمانہ دیکھے ہوئے تھا۔ اس نے اردو کے بہت سے اشعار سنائے ۔ ان میں سے ایک شعر یہ تھا : گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کیے جارہا ہوں میں الور کے مسافر کو اس طرح کے تاریخی واقعات یہاں کثرت سے سننے کے لیے ملتے ہیں۔ یہ " الور " اور اس طرح کے لاتعد اد دوسرے الور ہندوستان میں موجود تھے ۔ مگر وہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے نتیجہ میں برباد ہو کر رہ گئے۔ مسلمان ۱۹۴۷ء کے انقلاب کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ناقابل فہم حد تک احمقانہ قیادت کے سوا کوئی نہیں ہے جس کو اس درد ناک المیہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ اس نام نہاد قیادت نے مسلمانوں کو دیا کچھ نہیں، البتہ اس کو جو کچھ حاصل تھا اس سے اسے محروم کر دیا۔

انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۲) میں الور کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ یہاں، دوسری تاریخی عمارتوں کے علاوہ ، کئی قدیم مسجدیں بھی پائی جاتی ہیں :

It contain..... several ancient mosques (1/285).

مگر یہ بیان صحیح نہیں ۔ یہ واقعہ ہے کہ ۱۹۴۷ء تک الور میں ایک سو سے زیادہ تعداد میں پر رونق مسجدیں موجود تھیں ۔ مگر یہ سب مسجدیں آزادی کے بعد ہونے والے فسادات کی نذر ہوگئیں ۔ اب یہاں صرف دو باقاعدہ مسجدیں ہیں جو آزادی کے بعد کے دور میں از سر نو تعمیر کی گئی ہیں۔ ایک ، مدرسہ اشرف العلوم کی مسجد ، دوسرے ، میو بورڈنگ کی مسجد ۔ ان کے علاوہ ایک قدیم چھوٹی سی مسجد ہے جہاں ایک " شر نا رتھی" " خاندان آباد ہے۔

مولانا محمد ابراہیم صاحب اور مولانا مفتی جمال الدین صاحب ۱۹۴۹ میں دوبارہ الور میں آئے۔ موجودہ جگہ اس وقت چٹیل میدان کی صورت میں تھی۔ صرف کچھ ٹوٹے ہوئے پتھر اس بات کی علامت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page