It contain..... several ancient mosques (1/285).
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۸
مسلمانوں کی ہار کی تاریخ جیت کی تاریخ بن جائے گی۔
مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ اس طرح کے چھوٹے بڑے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو اس ملک میں کسی بھی شخص کے لیے زندگی بالکل ناممکن ہو جائے۔ مگر مسلم رہنما اس قسم کے واقعات کا چرچا نہیں کرتے اور نہ مسلمانوں کے اخبارات ان کو اپنے صفحات میں نمایاں کرتے۔ ہمارے رہنما اور ہمارے اخبارات دونوں صرف ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ جو بڑھتے بڑھتے گولی اور فساد تک پہنچ جائیں۔ اگرچہ فساد تک نہ پہنچنے والے واقعات سو میں 99 ہوتے ہیں اور فساد تک پہنچنے والے واقعات سو میں صرف ایک ـــــــ "فساد ہو گیا" کی خبر ہر ایک کو معلوم ہے ، مگر فساد ہوتے ہوتے رہ گیا " کی خبر کسی کو معلوم نہیں۔ یہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر ایک مہلک بیماری کا پتہ دیتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلمانوں کا بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اب انھوں نے مثبت ذہن کو کھو دیا ہے۔ وہ منفی نفسیات میں جینے والی ایک قوم بن گئے ہیں۔ بغض اور نفرت اور انتقام ان کی روح کی غذا ہیں۔ محبت، درگزر، انسانیت دوستی کی خبروں میں ان کی روح کے لیے کوئی غذا نہیں۔ الور کے متعلق عام شہرت یہ ہے کہ وہ ایک سخت متعصب علاقہ ہے۔ مگر اس طرح کی باتیں ہمیشہ جنرلائزیشن ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں تعصب ہو وہیں انصاف بھی موجود ہوتا ہے۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ مسٹر آروند مایارام (IAS) الود میں کلکٹر ہو کر آئے۔ وہ نہایت منصف مزاج آدمی تھے۔ انھوں نے یہاں کے مسلمانوں (میوؤں) کو اٹھانے کے لیے بہت کام کیا۔ انھیں کی وجہ سے مدرسہ اشرف العلوم کو موجودہ قیمتی زمین رعایتی قیمت پر مل سکی جب کہ وہ محکمہ ریلوے کے قبضہ میں جا چکی تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ مسٹر آروند مایارام ڈھائی سال تک الور میں رہ کر 1988 میں یہاں سے چلے گئے۔ آج کل وہ دہلی میں ہیں۔
ایک مجلس میں ایک صاحب رعایت اور ریزرویشن کی بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں مسلمان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے کہ ان کو ریزرویشن دیا جائے اور ان سے رعایت والا معاملہ کیا جائے۔
میں نے کہا کہ یہ معاملہ سادہ طور پر رعایت مانگنے کا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ یہ خدا کی طرف سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues