Al-Risala · September 1989 · page 37

It contain..... several ancient mosques (1/285).

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷

اس کے بعد قومی ایکٹ پنچ کے تحت ایک وفد شیر پور گیا۔ وہاں اس نے براہِ راست مشاہدہ کیا اور تصویریں لیں۔ واپس آکر انہوں نے ہندی اخبار ارن پر بھا میں مفصل رپورٹ شائع کی ۔ انھوں نے بتایا کہ لال داس کی درگاہ میں باضابطہ مسجدیں ہیں اور وہاں مسلمانوں کی قبریں ہیں۔ انھوں نے مسجدوں کی تصویریں بھی چھا پیں ۔ الور کے ہندوؤں نے جب اس تصویر رپورٹ کو پڑھا تو اچانک ان کا ذہن بدل گیا ۔ ہر ایک یہ کہنے لگا کہ آر ایس ایس والے ہی غلط ہیں ۔ وہ جھوٹا جھگڑا کھڑا کر نا چاہتے ہیں ۔ لوگوں نے مان لیا کہ مسلمانوں نے کسی مندر پر قبضہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ مسجد کے اندر پر امن طور پر نماز پڑھی ہے۔ ہندی اخباروں کی خبروں اور افواہوں کے خلاف یہاں کے مسلمان اگر مشتعل ہوتے اور تعصب کی شکایتیں کرتے رہتے تو یقیناً الور میں فساد ہو گیا ہوتا۔ مگر جب انھوں نے دانش مندانہ تدبیر کی تو فرقہ وارانہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ۔ اور مفسد تو وارانہ فساد کے دہانہ پر پہنچنے کے باد جو الور فساد سے بچ گیا ۔ مولانا محمد حنیف خاں صاحب نے میو بورڈنگ (الور) کا واقعہ بتایا ۔ وہ میو بورڈنگ کی مسجد میں امام اور خطیب ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۳ء میں یہاں بورڈنگ کے سامنے مسلمانوں نے کچھ چھوٹی چھوٹی دکانیں لگا لیں ۔ میونسپل کمیٹی کے لوگوں کو اس پر اعتراض ہوا کہ یہ سرکاری جگہ پر بلا اجازت بنائی گئی ہیں۔ انھوں نے پولیس کی مدد سے دکا نیں ہٹوا دیں ۔ میوؤں کا ایک وفد کلکٹر کے پاس فریاد لے کر گیا۔ مگر کلکٹر نے ان کو سخت جواب دے کر واپس کر دیا ۔

اس کے بعد کچھ مسلمانوں نے دوسری تدبیر کی ۔ انھوں نے ہندو طلبہ (مینا برادری اور جاٹ برادری) کی ایک تعداد کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ یہ جو واقعہ ہوا ہے اس کو صرف میوؤں کا واقعہ نہ سمجھیے ۔ آج جو کچھ میوؤں کے ساتھ ہوا ہے ، وہی کل خود آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ بات ہندو طلبہ کی سمجھ میں آگئی ۔ وہ فوراً کلکٹر کے پاس گئے ۔ کلکٹر نے انھیں بھی سخت جواب دیا ۔ طلبہ نے کلکٹر سے کہا کہ اس کو آپ چند نو جوانوں کی بات نہ سمجھیں ۔ الور کے سات ہزار اسٹوڈنٹ ہمارے پیچھے ہیں ۔ آپ اگر سختی کرتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ کو سات ہزار اسٹوڈنٹ سے مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اور اس معاملے میں ہندو مسلمان سب ایک ساتھ ہوں گے ۔ یہ دھمکی سن کر کلکٹر دب گیا اور سابقہ حکم کو واپس لے لیا ۔ اس طرح کے مواقع پر مسلمان اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ پولیس سے خود لڑ جاتے ہیں ۔ اگر وہ ایسا کریں کہ خود لڑنے کے بجائے برادرانِ وطن کو سامنے کر دیں تو صورت حال یکسر بدل جائے گی ۔ اس ملک میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page