It contain..... several ancient mosques (1/285).
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۰
ایک نظریے کے جواب میں دوسرا نظریہ تھا۔ اس جوابی نظریہ نے بہت سے زیر تعلیم نوجوانوں کو متاثر کیا اور وہ مادی فکر سے کٹ کر دینی فکر سے جڑ گئے ۔
محمد حنیف خاں صاحب نے بتایا کہ " میوات کا سفر" نامی کتاب میں نے پڑھی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اس کتاب کے بارے میں بعض میواتیوں نے اس تاثر کا اظہار کیا ہے کہ اس میں میوؤں کی خرابیوں کا ذکر ہے، مگر اس میں ان کی اچھائیوں کا ذکر نہیں۔
محمد حنیف خاں صاحب جو خود بھی ایک میو ہیں ، انھوں نے کہا کہ میرا تاثر اس کے بالکل برعکس ہے ۔ میں نے یہ کتاب (میوات کا سفر) دو مہینہ پہلے پڑھی ہے ۔ اس کو پڑھنے سے پہلے میں میوؤں کے مستقبل کے بارے میں مایوس تھا ۔ اس کتاب کو پڑھ کر میری مایوسی امید میں بدل گئی ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب میں بیک وقت دو باتیں ہیں۔ ایک بالفعل ، دوسرے بالقوہ ۔ میوؤں کی بالفعل تصویر تو وہی ہے جس کا نقشہ اس کتاب میں دکھایا گیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بات بھی اس میں بہت طاقتور انداز میں بتائی گئی ہے کہ میوؤں کے اندر بالقوہ صلاحیت نہایت اعلیٰ سطح پر موجود ہے، اگر ان کے بالقوہ کو بالفعل بنایا جاسکے تو وہ اسی طرح شاندار ترقی کر سکتے ہیں جس کی ایک مثال موجودہ جاپان میں نظر آتی ہے۔
۲۲۴ مئی ۱۹۸۹ کو سیلی بیٹھہ ، سار سکا اور ٹائیکر ڈین دیکھے۔ یہ سفر محمد چاولہ خاں صاحب کی معیت میں ہوا۔ یہ سب راجہ کے محل تھے ، اور اب وہ ہوٹل میں تبدیل کر دیے گئے ہیں ۔ تینوں محل پہاڑوں اور قدرتی مناظر کے درمیان ہیں۔ وہاں پہونچ کر آدمی کچھ دیر کے لیے ماحول کی خوبصورتی میں گم ہوجاتا ہے۔
تاہم یہ تفریح بے حد وقتی ہے۔ ہم ایک ہوٹل میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ چاروں طرف مسحورکن قدرتی مناظر پھیلے ہوئے تھے۔ خود ہوٹل کا تعمیری حسن بھی غیر معمولی تھا۔ ہوٹل کا منیجر ہمارے پاس آکر بیٹھ گیا۔ میں نے بات کرتے ہوئے پوچھا کہ موجودہ جاب آپ کے لیے کیسا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سخت بورنگ ۔ میں تو اس کو ایک پنشمٹ سمجھتا ہوں۔ کوئی آدمی جب یہاں آتا ہے تو ایک دو دن کے لیے تو اس کو یہاں کا ماحول بہت اچھا لگتا ہے ۔ اس کے بعد وہ بور ہو کر بھاگ جانا چاہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues