دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱
حقیقت یہ ہے کہ نیاپن کا نام زندگی ہے، اور یکسانیت کا نام موت۔ انسان کسی جامد چیز سے مستقل طور پر محظوظ نہیں ہو سکتا۔ مستقل طور پر محظوظ ہونے کے لیے ایک ایسی چیز درکار ہے جو ارتقا پذیر ہو۔ ایسا مقام صرف جنت ہو سکتا ہے۔ دنیا میں اس قسم کی لذت گاہ کا حصول ممکن نہیں۔ ۲۱ مئی کو مفتی جمال الدین صاحب کی صاحبزادی کے نکاح کی تقریب میں شرکت کی۔ الور سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر کیما سا نامی گاؤں کا سفر ہوا۔ سفر کا نصف حصہ الور۔ دہلی روڈ پر طے ہوا۔ سڑک دونوں طرف سے اونچے درختوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ جنتین عن يمين وشمال کا منظر تھا۔ یہ پورا سفر سر سبز چھتری کے نیچے ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب و غریب احسان یاد آیا۔ اس دنیا میں ہر کثیف چیز اوپر سے نیچے کی طرف جاتی ہے ۔ درخت واحد استثنا ہے جو نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہے ۔ درخت کی یہی خصوصیت ہے جس کے نتیجہ میں یہ ممکن ہوا کہ وہ ہمارے راستوں کے اوپر سر سبز چھتری بن کر سایہ فگن ہو سکے ۔ درخت میں اگر یہ استثنائی صفت نہ ہوتی تو زمین پر سر سبز میدان تو ہوتے مگر سر سبز سائے ہم کو نصیب نہ ہوتے۔
صبح ۸ بجے جدید طرز کی ماروتی وین قدیم طرز کے کیما سا میں داخل ہوئی۔ دل نے کہا کاش یہ واقعہ میوؤں کی قدیم زندگی میں جدید امکانات کے داخلہ کی علامت بن جائے ۔ ۲۰ سال پہلے راقم الحروف نے "میوات کے سفر" میں میوات کی جو تصویر دیکھی وہ تقریباً مکمل طور پر روایتی تھی ۔ آج اس قدامت میں جدت کی کچھ نشانیاں نظر آنے لگی ہیں۔ مگر ابھی وہ اتنی کم ہیں کہ وہ صرف اس زمرہ میں جاتی ہیں جس کے متعلق غالب نے کہا تھا :
دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
گاؤں کی مسجد میں نکاح کی سادہ تقریب ہوئی۔ قاضی صاحب نے رجسٹر نکاح بھرتے ہوئے پوچھا کہ مہر کتنی رکھی جائے ۔ نوشہ (محمد الیاس ۲۲ سال) کے والد نے کہا ۳۲ ۷ تولہ چاندی رکھ لو۔ معلوم ہوا کہ میوؤں میں سیکڑوں سال سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ساڑھے ۳۲ تولہ چاندی مہر نکاح مقرر کرتے ہیں ۔ اس قسم کی روایت کسی گروہ کے لیے بہت قیمتی ہے ۔
مجھے یاد آیا کہ چند روز پہلے نئی دہلی میں ہمارے دفتر کے سامنے والے پارک میں ایک شادی کی تقریب تھی ۔ پارک میں بہت بڑا شامیانہ لگایا گیا ۔ روشنیوں کی کثرت سے نگاہ ٹھیرانا مشکل تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues