Al-Risala · September 1989 · page 47

دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷

حج اسی سیاسی عمارت کے کھمبے ہیں ۔ علامہ اقبال نے مجھے ایک طوفانی سمندر میں ڈالا جہاں لہروں کے ساتھ لڑنا اور پھر ہلاک ہونے کے سوا کچھ اور نہیں۔ آپ نے مجھے ایک ایسی کائنات دکھائی جہاں ہر ایک شئے ذرہ سے ستاروں تک قانونِ الہی کی پابندی کر رہی ہے۔ اب کوئی چیز مجھے دل شکستہ نہیں کر سکتی جس کا آج سے چند سال قبل میں شکار تھا۔ (عبدالرحمن میر، کشمیر)

۸۔ - انجمن مظہر الحق کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے کشمیر کا سفر کیا۔ ۲۹ جون کو وہاں پہنچے اور ۳ جولائی ۱۹۸۹ء کو واپسی ہوئی۔ اس سلسلہ میں سرینگر اور بعض دوسرے مقامات پر خطاب کیا۔ ایک خطاب کا عنوان " اسلام اور خدمت خلق " تھا۔ دوسرے خطاب کا عنوان ۔ اسلامی عبادت ۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ آئندہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

۹۔ - الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں : ایک مقامی مسلمان لیڈر آپ کی بعض تنقیدوں سے برہم تھے۔ کیونکہ اس کی ندان کے اوپر پڑتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ کے " مولوی" کے خلاف لیگل کارروائی کروں گا۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے انتخابی حلقہ میں سب سے زیادہ الرسالہ پڑھا جا رہا ہے۔ ایک ایک پرچہ کو بسا اوقات سو سو آدمی پڑھتے ہیں یا پڑھوا کر سنتے ہیں۔ اگر آپ نے الرسالہ کے خلاف کوئی کارروائی کی اور انھوں نے آپ کا قصہ الرسالہ میں چھاپ دیا تو آپ کے ووٹ یقیناً کٹ جائیں گے۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ الرسالہ کے اثرات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔

۱۰۔ عبدالرؤف خاں صاحب (عمر کھیڑ) نے ۱۶ جون ۱۹۸۹ کی ملاقات میں بتایا کہ عمر کھیڑ (مہاراشٹر) کے اسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر اشوک امبھورے نے انگریزی الرسالہ کے بعض شمارے دیکھے ۔ پھر کچھ لوگوں نے ان کو اردو الرسالہ کے بعض مضامین پڑھ کر سنائے ۔ اب ان کی دل چسپی الرسالہ سے اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ اردو الرسالہ کو براہ راست پڑھنے کے لیے اردو زبان سیکھ رہے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اس طرح کی خبریں دوسرے مقامات سے بھی مل رہی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page