دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۶
مئی ۱۹۸۹ کے آخری ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے الور اور میوات کے بعض دیہاتوں کا سفر کیا۔ اس کا سفرنامہ لکھ لیا گیا ہے۔ آئندہ انشاء اللہ کسی شمارہ میں شائع کیا جائے گا۔ ۹ - جولائی ۱۹۸۹ کو دہلی میں "مسلم سیاسی کنونشن" ہوا۔ اس کنونشن کے داعی مدینہ طورپر الرساله مشن کے مخالف ہیں۔ مگر ماؤ لنکر ہال جہاں اس کنونشن کی دو روزہ کارروائیاں ہوئیں، اس کے گیٹ پر شرکت کرنے والی ایک مسلم تنظیم کی جانب سے ایک بینر لگا ہوا تھا۔ جس پر نمایاں طور پر لکھا ہوا تھا: "اتحاد کے لیے، اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا" یہ پیغام واضح طور پر الرساله کا پیغام ہے۔ مذکورہ مسلم کنونشن میں اس پیغام کے بینر کا ہونا بتاتا ہے کہ الرساله کامشن خدا کے فضل سے اب اتنا پھیل چکا ہے کہ اس کی گونج اس کے مخالفین کے کیمپ میں بھی سنائی دیتی ہے ۔
ڈاکٹر امیر لال چوپڑہ (عمر ۸۳ سال) علامہ اقبال کے شاگرد ہیں۔ اور کلکتہ میں رہتے ہیں۔ وہ الرساله کے مستقل قاری ہیں۔ نیز انھوں نے اسلامی مرکز کی مطبوعات بھی پڑھی ہیں۔ وہ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: واقعی اس دور میں اسلام جیسے دین کامل کو صحیح طور پر پیش کرنے کا سہرا الرساله کے سر ہے۔ ورنہ جس قدر غلط تعبیرات کا نشانہ اسلام رہا ہے کوئی اور نہیں رہا۔ آپ کی نیک کوششوں نے اس کا ازالہ کیا ہے۔ جہاں کہیں بھی کسی مسلم مجلس میں مجھے جانے کا موقع میسر ہوتا ہے تو میں آپ کی نیک کوششوں کا ذکر ضرور کرتا ہوں۔ آپ نے واقعی اسلام کو اسلام بنا دیا ہے۔ اور ہر شخص آپ کے اور آپ کے پیش کردہ اسلام کی تعبیر کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : اللہ اکبر کا مطالعہ کیا۔ اس سے پہلے اسلام دین فطرت وغیرہ کا بھی مطالعہ کر چکا ہوں۔ ۱۹۸۰ء میں جب میں کالج میں پڑھ رہا تھا ، علامہ اقبال کا یہ شعر ـ "سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر" تیری نظر سے گزرا۔ مگر آج تک میری لالہ وگل سے ملاقات نہ ہوئی۔ الحمد للہ آپ کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد میں نے کائنات کے ذرہ ذرہ سے بات کرنے کا طریقہ سیکھا۔ ایک زمانہ تھا جب میں نے کتاب " خطبات" پڑھی۔ اس نے مجھے یہاں تک پہنچایا کہ اسلام ایک سیاسی نظام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ نماز، روزہ زکوۃ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues