Al-Risala · October 1989 · page 127

اسلامی شجاعت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲۷

اسلامی شجاعت

حطین کی جنگ (۱۱۸۷ء) تاریخ کی مشہور جنگ ہے۔ حطین شمالی فلسطین کا ایک مقام ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے اسی مقام پر اپنی غیر معمولی جنگی منصوبہ بندی کے ذریعہ صلیبی فوجوں پر فتح حاصل کی۔ اس وقت مسلم فوج کی تعداد ۱۸ ہزار تھی، اور عیسائی فوج کی تعداد ۱۵ ہزار۔ جنگ میں بیشتر عیسائی فوجی مارے گئے ۔

جنگ کے بعد بہت سے عیسائی سردار گرفتار ہوئے۔ ان میں یروشلم کا بادشاہ (Guy de Lusignan) اور فرانسیسی جنرل ریجینالڈ (Reginald) بھی شامل تھا۔ ریجینالڈ کے متعلق مورخین متفق ہیں کہ اس نے صلاح الدین ایوبی کے ساتھ بار بار غدر کا معاملہ کیا تھا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا (۱۹۸۳) نے لکھا ہے کہ ریجینالڈ ۱۱۴۷ء اور ۱۱۸۷ء کے درمیان ہونے والی صلیبی لڑائیوں میں اہم فوجی شخصیتوں میں سے ایک تھا جس کی صلح کی مدت کے دوران مسلم قافلوں پر نا عاقبت اندیشانہ حملوں کی پالیسی آخر کار یروشلم کی لاطینی بادشاہت کی بربادی اور اس کے بیشتر علاقوں کے کھوئے جانے کا سبب بنی :

One of the leading military figures of the Crusades between 1147 and 1187, whose reckless policy in raiding Muslim caravans during periods of truce led to the virtual destruction of the Latin Kingdom of Jerusalem and the loss of most of its territory (VIII/480). مورخ ابن شداد نے لکھا ہے کہ ریجینالڈ نے ایک بار مسلم قافلہ پر دھوکے سے حملہ کیا۔ انھوں نے اس کو خدا کا واسطہ دلایا۔ اور اس معاہدہ صلح کا واسطہ دیا جو اس کے اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا۔ مگر ریجینالڈ نے کہا کہ اپنے محمد سے کہو، وہ تمہیں بچائے۔ یہ خبر جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچی تو اس نے نذر مانی کہ اللہ جب اس کے اوپر مجھے فتح دے گا تو میں خود اس کو قتل کروں گا (امنہ لما غدر بالقافلة ناشد وا الله والصلح الذي بينه وبين المسلمين ۔ فقال : قولوا لمحمدكم يخلصكم ۔ فلما بلغه ذلك عنه نذر انه متى اظفره الله به قتله بنفسه، صفحه ۱۲۷)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page