Al-Risala · October 1989 · page 5

اسلامی شجاعت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۵

جنگ کے بعد ریجینا لڈ اور دوسرے لوگ قیدی کی صورت میں صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گیے۔ صلاح الدین نے ریجینا لڈ کی غداری کے واقعات اس کو یاد دلائے۔ نیز اس واقعہ کو یاد دلایا جب کہ اس نے حاجیوں کے ایک قافلہ کو لوٹا تھا۔ اور ان کی فریاد پر ان سے کہا تھا کہ اپنے محمد کو بلاؤ، وہ تم کو بچائیں گے۔ اس کے بعد صلاح الدین نے تلوار اپنے میان سے نکالی اور ریجینا لڈ کی گردن مار دی ۔ اس کو قتل کرتے ہوئے صلاح الدین نے کہا کہ لو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہارا انتقام لیتا ہوں رھا انا ذا انتصر لمحمد صلى الله عليه وسلم)۔

یروشلم کے بادشاہ گائی نے جب ریجینا لڈ کا یہ انجام دیکھا تو وہ کانپ اٹھا۔ وہ ڈرا کہ اب میرا بھی یہی انجام ہوگا ۔ اس کو یقین ہو گیا کہ تلوار کا دوسرا وار اس کے اوپر پڑنے والا ہے ۔ مگر سلطان صلاح الدین نے اس کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا :

ليس من عادة الملوك ان يقتلوا الملوك یہ بادشاہوں کی عادت نہیں کہ وہ بادشاہوں ولما هذا فانه نقض العهد مرة بعد مرة کو قتل کریں ۔ باقی اس شخص (ریجینا لڈ) نے تو فجری ما نجری (النوادر السلطانيه ، ۴۲) عہد کو بار بار توڑا تھا۔ پس ہوا جو کچھ ہوا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس شخص کو قتل کر دیا جس نے بار بار کے غدر اور معاہدہ کی خلاف ورزی سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ ناقابل معافی حد تک ایک بُرا آدمی ہے ۔ مگر صلاح الدین نے اس شخص کو چھوڑ دیا جو اگر چہ دشمن تھا۔ مگر اس نے خُبث اور کمینگی اور نقض عہد کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

اسی کا نام اسلامی شجاعت ہے۔ سچا اسلامی بہادر وہ ہے جو لڑنے کے ساتھ صلح بھی کرنا جانتا ہو۔ جو انتقام لینے کے ساتھ معاف کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ جو یہ جانتا ہو کہ کب تلوار اٹھائی جاتی ہے اور کب یہ ضروری ہوتا ہے کہ تلوار کو میان میں ڈال لیا جائے۔ صفحات ۱۱۲ اسلام دور جدید کا خالق هدیه ۱۵ روپیه

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page