مشینی امداد
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵
مشینی امداد
امریکی سماج میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بڑھاپے کی عمر میں پہنچ گئے ہیں مگران کا کوئی عزیز نہیں جوان کے پاس رہے۔ وہ اپنے گھروں میں بالکل تنہا زندگی گزارتے ہیں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک بوڑھا آدمی اچانک ایسے حادثہ کا شکار ہو جاتا ہے جس میں اسے فوری طور پر کسی مددگار کی ضرورت ہو، مگر اس کے پاس کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ اس قسم کے بوڑھوں کے لیے امریکہ کی پولیس نے ایک نظام جاری کیا ہے جس کا نام ہے ۔ ٹیلیفون ڈائلنگ کمپیوٹر سروس :
Telephone-dialing computer service
یہ نظام ان بوڑھے لوگوں کی خود بخود دیکھ بھال کرتا رہتا ہے جو کسی گھر میں تنہا زندگی گزار رہے ہوں۔ ایک کمپیوٹر ٹرشینی نظام کے تحت ہر روز انھیں ٹیلیفون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ گڈ مارننگ ، کیا آپ ٹھیک ہیں :
Good Marning! Are you O.K.?
اگر گھر کی طرف سے جواب میں ہاں (Yes) سنائی دے تو کمپیوٹر سمجھ لیتا ہے کہ گھر کا آدمی خیریت سے ہے۔ اور اگر گھر کی طرف سے کوئی جواب نہ ملے تو کمپیوٹر فوراً پولیس کو اطلاع دے دیتا ہے۔ یہ اطلاع اتنی مکمل ہوتی ہے کہ پولیس چند منٹ میں اس کے گھر پہنچ جاتی ہے اور اس کو ضروری مدد پہنچاتی ہے۔ اوساگ (Osage) کا ایک شخص کلائیلٹر (Cly de Lytter) جن کی عمر ۶۳ سال ہے ، ایک روز کمپیوٹر نے ان کو ٹیلیفون کیا تو ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ کمپیوٹر نے فوراً پولیس کو اطلاع دی ۔ پولیس نے کمپیوٹر کی مدد سے سیکنڈوں کے اندر آدمی کے گھر کا پورا پتہ معلوم کر لیا اور فوراً ایک پولیس پارٹی وہاں پہنچ گئی۔ دروازہ کھولنے کے بعد معلوم ہوا کہ صاحب خانہ جو ذیابیطس کے مریض تھے، وہ کوما کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ انھیں فوراً اسپتال پہنچا کر ان کے علاج کا انتظام کیا گیا۔ اسی طرح ایک بوڑھا آدمی اس وقت بچا لیا گیا جب کہ اس کے دونوں ہاتھ ایک کھڑکی میں پھنس گیے تھے اور وہ ٹیلیفون کرنے یا ٹیلیفون سننے سے معذور ہو گیا تھا۔ (ٹائم، یکم مئی ۱۹۸۹ )
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues