Al-Risala · October 1989 · page 16

نئے دور کے کنارہ پر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶

نئے دور کے کنارہ پر

امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے ۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو بہت زیادہ دولت مند ہیں۔ اس میں ۳۰ بڑے بڑے دولت مندوں کے مفصل انٹرویو درج کیے گیے ہیں۔ یہ وہ امریکی سرمایہ دار ہیں جن کا سرمایہ ۱۹۸۰ء کے اندازہ کے مطابق ۲۲۵ ملین ڈالر تھا۔ کتاب کا نام یہ ہے : The Ultra Rich, by Vance Packard, Little, Brown; 358 pages. ان سرمایہ داروں کے پاس ممکن مسرفانہ خرچ سے بھی زیادہ رقم ہے۔ ان کے پاس اتنے بڑے بڑے مکانات ہیں جن کے اندر ہوائی جہازوں کے اترنے کے لیے رن وے (Runway) تک موجود ہے ۔ وغیرہ (ٹائم ۱۳ فروری ۱۹۸۹)

تاہم وہ اپنی دولت سے پریشان ہیں۔ ایک دولت مند نے کہا کہ میرا مکان مجھ کو ایک وسیع قسم کا سر سبز پنجرہ (Verdant cage) معلوم ہوتا ہے۔ ایک اور دولت مند نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر میں اس کو کیا کروں :

I didn't know what the hell to do with it.

ان دولت مندوں کو اکتاہٹ کے علاوہ اور بھی مسائل درپیش ہیں۔ مثلاً ایک دولت مند نے کہا کہ اس کے بچے جلد ہی خود کروڑ پتی (Millionaires) ہو جائیں گے۔ وہ اپنی ۴۰ ملین ڈالر کی دولت کا کوئی حصہ انھیں دینا نہیں چاہتا۔ کیوں کہ زیادہ دینا ان کو خراب کر دے گا : Giving more just spoils them. مصنف وانس پیکارڈ جو خود اقتصادیات کا عالم ہے ، اس نے تفصیلی جائزہ کے بعد اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ تھوڑے سے افراد کے درمیان زیادہ دولت کا اجتماع بہت برا ہے۔ یہ سرمایہ داری کی اچھی صحت کے لیے خطر ناک ہے۔ اس کے علاج کے لیے مصنف نے ایک تجویز پیش کی ہے ــ ایک خاص مقدار، مثلاً ۲۵ ملین ڈالر کے بعد ، پوری دولت پر ٹیکس لگانا : Taxing net worth above a certain level (Say, $ 25 million).

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page