Al-Risala · October 1989 · page 19

دینِ فطرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

دینِ فطرت

ایک مسلمان جون پور سے اعظم گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹیکسی میں ایک ہندو بھائی بھی تھے۔ ابتدائی تعارف کے بعد انھوں نے کہا : آپ لوگ تو پہلے ہندو تھے ، پھر آپ اپنے پرانے دھرم پر کیوں نہیں آجاتے ۔ مسلمان نے کہا کہ اسلام نے ہم کو توحید دی ہے ، آپ ہمیں کیا دیں گے ۔ اگر آپ ہمیں مورتی پوجا دیں ، تو اس کو تو آپ خود ہی چھوڑ رہے ہیں ۔ اسلام نے ہمیں سماجی برابری دی ہے ۔ اس کے بدلے آپ ہمیں کیا دیں گے ۔ اگر آپ ہم کو ذات پات اور چھوت چھوت دیں ، تو اس سے بھی آپ لوگ خود ہی برأت کر رہے ہیں ۔ ہندو بھائی یہ باتیں سن کر خاموش ہو گئے۔

ایک مسلمان اپنے گھر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص وہاں آیا ۔ اس نے کہا کہ میں گورکھپور کا ایک برہمن ہوں۔ میرے دل میں کئی سال سے ایک کھٹک ہے۔ میں نے بہت سے پنڈتوں اور پادریوں سے پوچھا۔ مگر مجھے اطمینان نہ ہوسکا۔ میں اس تلاش میں ہوں کہ آدمی کے لیے نجات کا ذریعہ کیا ہے۔ مسلمان نے کہا کہ نجات کا راستہ ہے ـــ خدا کو ایک ماننا ، آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر تسلیم کرنا ، اور ان کے بتائے ہوئے راستہ کے مطابق آخرت کی فکر کرنا۔ برہمن نے کہا کہ میں اسلام کی ان تینوں ہی باتوں کو مانتا ہوں ۔

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ اتنے میں مغرب کی اذان ہو گئی۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر کی آواز فضا میں گونجنے لگی۔ مسلمان نے کہا کہ چلئے ، مسجد میں چل کر نماز پڑھ لیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں کیسے نماز پڑھوں گا ، میں تو ہندو ہوں ۔ مسلمان نے کہا کہ جب آپ اسلام کی ان تین بنیادی باتوں ( توحید ، رسالت ، آخرت ) کا اقرار کرتے ہیں تو آپ مسلم ہیں۔ وہ راضی ہو گئے اور وضو کر کے مسلمان کے ساتھ مغرب کی نماز میں شریک ہو گئے (ملی جمیعت ، ۱۵ اپریل ۱۹۸۹)

اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اسلام کس قدر سادہ مذہب ہے ۔ اسلام کی یہ سادگی ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسلام اتنا زیادہ سادہ مذہب ہے کہ ہر مسلمان اس کو سمجھ سکتا ہے اور دوسروں کے اوپر اس کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ وہ اتنا فطری مذہب

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page