Al-Risala · October 1989 · page 20

دینِ فطرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

ہے کہ کوئی بھی شخص جو اس کو خالی الذہن ہو کر سنے ، وہ فورا اس کے دل کو اپیل کرے گا۔ اسلام کے پھیلنے میں رکاوٹ صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ اسلام کو سننے اور سمجھنے کے لیے معتدل فضا باقی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اگر اجنبیت حائل نہ ہو اور ان کے درمیان تناؤ کا ماحول ختم ہو جائے تو منظم تبلیغی کوششوں کے بغیر اپنے آپ تبلیغ ہونے لگے۔ دونوں فرقوں کے درمیان روزانہ کا عام میل جول ہی اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بن جائے۔

دوسرے مذاہب جو آج دنیا میں پائے جاتے ہیں ، ان میں عقائد اور عبادات کا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ صرف اعلیٰ تربیت یافتہ (پنڈت اور پادری) ہی اس کی تبلیغ کر سکتے ہیں۔ اسلام کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام ایک انتہائی سادہ اور کامل طور پر ایک فطری مذہب ہے۔ اس لیے ہر مسلمان اس کی تبلیغ کر سکتا ہے ، ہر مسلمان اس کی اشاعت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہزاروں لوگ جو ہر روز دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام قبول کرتے رہتے ہیں ، ان کا معاملہ زیادہ تر یہی ہے ، وہ کسی تربیت یافتہ مبلغ کی تبلیغ سے اسلام میں داخل نہیں ہوتے۔ بلکہ بیشتر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے میل جول کے درمیان انہیں اسلام کی کسی تعلیم کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس سے ان کے اندر تلاش کا جذبہ جاگتا ہے۔ اس کے بعد وہ قرآن یا دوسری اسلامی کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مزید متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔

روزنا توری (Rosanna Da La Torre) ایک امریکی خاتون ہیں۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ پہلے وہ ایک فیشن پسند لڑکی تھیں۔ مگر اب وہ اسلامی طریقہ کے مطابق باحجاب زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے قبول اسلام کے بارے میں ان کا ایک خط امریکی مسلمانوں کے جریدہ اسلامک ہورائزن (Islamic Horizons) کے شمارہ دسمبر ۱۹۸۸ میں شائع ہوا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ میں کیلی فورنیا کی ایک کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئی ۔ میرے والدین بچپن سے مجھ کو چرچ لے جاتے تھے۔ وہاں میں دیکھتی تھی کہ لوگ مسیح کے اسٹیچو کے آگے جھک رہے ہیں۔ مگر میرا دل کبھی اس پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں یہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ اسٹیچو کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page